وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا ہے کہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ جسٹس یحیٰی آفریدی کو نیا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے کمیٹی کے رکن فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور صدر مملکت پر ہے کہ نوٹی فکیشن کب جاری کرتے ہیں،راجہ پرویزاشرف کا کہنا تھا دوتہائی اکثریت سے فیصلہ ہوا ،ہمیشہ اچھے کی توقع رکھنی چاہئے،اللہ تعالیٰ پاکستان کیلئے بہتری کرے۔
آئینی ترمیم آزاد عدلیہ پر حملہ ، اس بار پورا پاکستان بلاک کریں گے ، علی امین گنڈا پور
قبل ازیں نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا،تحریک انصاف کو منانے کی کوشش کی گئی تاہم پی ٹی آئی نے شرکت سے صاف انکار کردیا۔
نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ نے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جن میں موسٹ سینئر جسٹس منصور ہیں اور ان کے بعد جسٹس منیب اور جسٹس یحییٰ آفریدی ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ایک صفحے پر مشتمل مختصر رپورٹ بجھوائی گئی جس میں ججز کا مختصر پروفائل، تاریخ پیدائش، تعلیم، وکالت کی تفصیلات، کب جج بنے؟ کب ہائی کورٹس کے چیف جسٹس بنے، سپریم کورٹ میں تعیناتی کی تاریخ بھی شامل ہے۔
بشریٰ بی بی خواتین وارڈ کے انتہائی محفوظ سیل میں ہیں ، اڈیالہ جیل انتظامیہ
صبح ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری قانون و انصاف نے تین سینئر ججز کے نام اور پروفائل پیش کیے۔ تاہم پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اجلاس میں شریک نہ ہوئے جس پر اجلاس رات ساڑھے 8 بجے تک مؤخر کردیا گیا۔
کمیٹی نے پی ٹی آئی کو منانے کا فیصلہ کیا ہے اور چار ارکان پی ٹی آئی کے پاس گئے۔ خواجہ آصف ،احسن اقبال، راجہ پرویز اشرف اور رعنا انصار روانہ ہوگئے۔
بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی کے اراکین نے پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کر کے انہیں کمیٹی اجلاس میں شرکت پر راضی کرنے کی کوشش کی۔
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے آئینی ترمیم مسودہ کی منظوری دے دی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے ہونے والی آئینی ترمیم کے بعد ہم کسی بھی کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکتے اور یہ فیصلہ ہماری سیاسی کمیٹی کا ہے۔
واضح رہے خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ پرویز ملک اور اعظم نذیرتارڑ جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے پرویز اشرف، نوید قمر اور فاروق نائیک شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایم کیوایم کے رعنا انصار اور جے یو آئی (ف) سے کامران مرتضی جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے بیرسٹر گوہر ، صاحبزادہ حامد رضا اور سینیٹرعلی ظفر خصوصی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
