اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے صارفین کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کردیا ہے۔
مقبوضہ وادی کشمیر کے نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کے خلاف جاری ریاستی ظلم وجبرکے خلاف آواز بلند کرنے پراب ٹوئٹر صارفین کے اکاؤنٹس کو جزوی یا مستقل طور پر بلاک کیا جارہا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ اس سے قبل بھی صارفین کی جانب سے شیئر کیے جانے والے مواد کی کاٹ چھانٹ کرتی رہی ہے۔
https://twitter.com/defencedotpk/status/1011896085445529601
متعدد ٹوئٹر صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں ای میلز موصول ہو رہی ہیں جس میں ’بھارتی قانون‘ کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں متنبہ کیا جارہا ہے۔
https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1011943866314952705
ٹوئٹر کے ان اقدامات کو سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ طاقت کا بہیمانہ استعمال کرنے کے بعد اب انڈیا اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔
https://twitter.com/JazminJaed/status/1011925537621708801
کشمیریوں پر ہونے والے مظالم چھپانے کے لیے مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے انٹرنیٹ اور موبائل کمپنیوں کی سروسز بند کردی جاتی ہیں۔ ایسے میں ان مظلوم کشمیریوں کی آواز بننے والے سماجی کارکنوں کو نشانہ بنانا مذموم بھارتی کوشش ہے۔
https://twitter.com/OfficialHanzala/status/1012019746634682368
اس ضمن میں پاکستانی سماجی کارکن ارم احمد خان کا اکاؤنٹ بھی معطل کردیا گیا۔ ارم احمد اپنے نئے اکاؤنٹ سے لکھتی ہیں کہ ’ٹوئٹر کو خود کو ایک بھارتی ادارہ کہلوانا چاہیے کیونکہ وہ آزادی رائے کے عالمی قوانین ماننے کے بجائے ایک ملک کی حمایت کررہا ہے’
https://twitter.com/IramAhmadKhan2/status/1012017311929241600
برطانوی صحافی اور سماجی کارکن ڈاکٹر ریٹا پال نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انڈین آرمی آج کل کشمیریوں کو بھارت کے خلاف بولنے پر خبردار کرنے اور پاکستانی حمایتیوں کے اکاونٹ معطل کرانے میں مصروف ہے۔
https://twitter.com/dr_rita39/status/1011886868227674113
اس سے قبل بھی متعدد بار ٹوئٹر کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے والے افراد اور تنظیموں کے اکاونٹس معطل کیے جاچکے ہیں۔ ایک ٹوئٹر صارف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے۔
https://twitter.com/Nomysahir/status/1012248056920715265
سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس بلاک کرنے اور پوسٹس کو سینسر یا ڈیلیٹ کرانے والے ممالک میں بھارت کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ صرف 2015 میں بھارت نے فیس بک اکاؤنٹس یا پوسٹس کو ہٹانے کی 15 ہزار درخواستیں دی تھیں۔
Twitter authorities suspended many handles of Kashmiris and now you cannot see their tweets. It appears “account withheld in India” when they tweet. However you can see their tweets by simply changing your country to any country other than India in your twitter settings.#Kashmir
— Account Withheld! (@BurhanSpoke) April 22, 2018
پاکستان کے سماجی کارکنوں نے بھارت کی تمام مذموم کاوش کے باوجود ہمت نہیں ہاری ہے اورنہتے و مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلند کرنے اور دنیا کو ریاستی مظالم سے آگاہی دلانے کےلیے نئے اکاؤنٹس بنالیے ہیں۔
ٹوئٹر صارفین کا کہنا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو وہ کشمیر کے حق میں آواز میں اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
