راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس ہمارے مطالبات ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ میں ملک بھر کے شہریوں سے بجلی بل ادا نہ کرنے کا اعلان کرسکتا ہوں۔
راولپنڈی میں احتجاجی دھرنے کے مقام پر خواتین کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جو رکاوٹیں توڑ کر پہنچیں۔ حکومت ایک جانب مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔ دوسری جانب لاہور میں ہماری ہزاروں خواتین کو روکا گیا۔ پنجاب حکومت فسطائیت کا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہو گئی ہے یہ تحریک اب کامیاب ہو گی کوئی روک نہیں سکتا۔ خواتین ان مسائل کو سب سے زیادہ جھیلتی ہیں۔ دفاتر میں جو خواتین کام کرتی ہیں شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آٹا، بجلی، گیس سب مہنگا کیا جا رہا ہے۔ کسانوں نے جب بہترین فصل تیار کی تو پنجاب حکومت نے پہلے سبسڈی کی بات کی پھر کسانوں کو دھوکہ دیا۔ کسانوں کے ساتھ پنجاب حکومت نے فراڈ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب بڑے بڑے دعوے میڈیا پر کر رہی ہے۔ حال یہ ہے تیرہ ہزار سکول سر سے ہٹا رہے ہیں۔ این جی او والے اپنا کام کریں مگر حکومت بھی اپنا کام کرے۔ ہمارے ہر بچے اور بچی کو تعلیم ملنی چاہیے یہ ہمارا حق ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 30، 40 فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جن کی تنخواہ سے زیادہ بل آرہے ہیں۔بہت سی خواتین نے اپنا زیور بیچ کر بل ادا کیا۔ آگے کیا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سرمایہ یوتھ پاکستان اور اپنے مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں۔ 80فی صد لوگ ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا۔ حکومت بات مان لے کیونکہ جتنی دیر کرے گی اتنا ہی نقصان ہوگا کیونکہ اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔
