امریکی صدر جوبائیڈن صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوگئے۔
امریکی صدر جوبائیڈن نےدستبرداری کااعلان سوشل میڈیا پر کیا، انہوں نے کہا باقی مدت تک ذمہ داریاں نبھانے پر توجہ مرکوز رکھوں گا،فیصلے سے متعلق رواں ہفتے قوم سے خطاب کروں گا۔
حکومت نے آئی ایم ایف کا ساورن ویلتھ فنڈ ایکٹ پرنظر ثانی کا مطالبہ تسلیم کرلیا
خطاب میں قوم کو تفصیلات سے آگاہ کروں گا،دستبرداری کا فیصلہ پارٹی اور ملک کے بہترین مفا د میں ہے ،جوبائیڈن نے اپنی جگہ کملا ہیرس کی بطور صدارتی امیدوار توثیق کردی۔
امریکی صدر جوبائیڈن پر دستبرداری کیلئے شدید دباؤ تھا، وہ اپنی صدارتی مدت پوری کریں گے، جوبائیڈن51برس سے امریکی سیاست کا حصہ رہے۔
بشریٰ بی بی کا بیان:سینیٹر علی ظفر سے بات کرینگے،رؤف حسن
جوبائیڈن 1973میں پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئے،36برس سینیٹ کے رکن رہے،باراک اوباما کے ساتھ 2008 میں پہلی بار نائب صدر منتخب ہوئے۔
2012کے صدارتی الیکشن میں بھی نائب صدر بنے،جوبائیڈن2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرا کر امریکی صدر بنے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے پر سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن صدارت کیلئے کبھی فٹ نہیں تھے،صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کو ہرانا آسان ہوگا۔
بائیڈن صرف جھوٹ اورجعلی خبروں کے ذریعے صدارت پر فائز رہے،بائیڈن کے قریبی ساتھی اور ڈاکٹر جانتے تھے وہ صدارت کے اہل نہیں ہیں۔
ری پبلکن پارٹی کا ردعمل
ری پبلکن پارٹی نے صدر جوبائیڈن سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ، اسپیکرایوانِ نمائندگان کا کہنا تھا الیکشن لڑنےکےقابل نہیں توبطورصدرکام کرنےکےبھی قابل نہیں،جوبائیڈن فوری طور پر صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
