نگران وزیرتجارت گوہر اعجاز کو وزارت داخلہ کااضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
شاہد آفریدی کی شعیب ملک اورثناء جاوید کو شادی کی مبارکباد
نگران وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،علاوہ ازیں نگران وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز نے وزارت داخلہ کا باقاعدہ قلمدان سنبھال لیا۔
وزارت داخلہ آمد پر سینئر حکام نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا،نگران وزیر داخلہ کی وزارت کے سینئر افسران سے تعارفی ملاقات ہوئی۔وزیر داخلہ کو وزارت داخلہ اور اسکے ذیلی اداروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی،ڈاکٹر گوہر اعجاز پاکستان کے 48 ویں وفاقی وزیر داخلہ ہیں
یاد رہے وزارت داخلہ کی حساس وزارت پانچ ہفتوں تک نگران وزیر داخلہ سے محروم رہی۔سر فراز بگٹی نے15 دسمبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیاتھا تاکہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں ۔رولز کے تحت اگر کوئی وزارت کسی کو نہ دی جا ئے تو اس کے انچارج وزیر خود وزیر اعظم ہوتے ہیں۔
وزارت ہا ئوسنگ و تعمیرات‘ تخفیف غربت ‘ سیکورٹی ڈویژن ‘ مشتر کہ مفادات کونسل ‘ کابینہ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے انچارج وزیر بھی خود وزیر اعظم ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم کوعہدے سے ہٹانے کی درخواست نمٹادی
نگران وزیر داخلہ کے نہ ہونے سے متعدد انتظامی اور سیکیورٹی امور کھٹائی کا شکار رہے، وزیر داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے سی ڈی اے ،پاسپورٹ آفس، نادرا اور دیگر اہم اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔
نارمل پاسپورٹ کے زیر التواء کیسز کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور دو دو ماہ تک پا سپورٹ نہیں ملتا۔
علاوہ ازیں وزارت منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگراموں میں داخلہ ڈویژن کے منصوبوں کےلئے اب تک 3 ارب 48کروڑ 25لاکھ روپے کے فنڈز جاری کیے جن میں سے ایک ارب 22کروڑ 51لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔
کینیڈا نے سٹوڈنٹ ویزا پالیسی میں تبدیلی کردی
پلاننگ کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے دوران اس ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 9 ارب 95 کروڑ روپے سے زیادہ کے فنڈز مختص کیے ہیں جن میں سے 3 ارب 48 کروڑ 25 لاکھ روپے جاری اور 1 ارب 22 کروڑ 51 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔
