لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے جمعرات (کل) دوپہر دو بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پرویز مشرف واپس نہ آئے تو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔
عدالت عظمیٰ نے سماعت کی ابتدا میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے وکیل ملک قمر افضل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل عدالت میں پیش ہو رہے ہیں؟
سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشروف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگران کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے تو ان کے مؤکل آئین شکنی کے مقدمہ سمیت دیگر مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے اس پر ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ واپسی کےلیے مشرف کی شرائط کی پابند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف وطن واپس آئیں، انہیں تحفظ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لکھ کر گارنٹی دینے کے پابند نہیں ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں تو آ کر دکھائیں، سیاستدانوں کی طرح میں آ رہا ہوں کی گردان مت کریں۔ انہوں نے ریمارکس میں واضح کیا کہ اگر واپس نہ آئے تو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔
سپریم کورٹ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ مشرف کو کس بات کا تحفظ چاہئیے؟ کس خوف میں مبتلا ہیں؟ اتنا بڑا کمانڈو خوف کیسے کھا گیا؟ انہوں نے معلوم کیا کہ اتنا بڑا ملک ٹیک اوورکرتے وقت خوف نہیں آیا؟
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مشرف تو کہتے تھے کہ وہ کئی بار موت سے بچے لیکن خوف نہیں کھایا۔ عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے ریمارکس میں کہا کہ مشرف واپس آئیں قانون، عوام اورعدلیہ کا سامنا کریں۔
سپریم کورٹ کے سربراہ نےدوران سماعت کہا کہ عدالت جائزہ لے گی کہ مشرف کو واپس آنے جانے کی اجازت کب دینی ہے؟ اوران کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ آئیں اورغداری کے مقدمے کا سامنا کریں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی، یہ اجازت حکومت کی جانب سے دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط انداز سے بیان کیا گیا۔
عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے کہا کہ حکومت نے ہی مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ فل بنچ کا فیصلہ پرویز مشرف کے راستے کی رکاوٹ ہے۔
دوران سماعت جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ان کے مؤکل جنرل(ر) پرویز مشرف کو رعشہ کی بیماری ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نـثار نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کو رعشہ کا مسئلہ ہے تو انتحابات میں مکہ کیسے دکھائیں گے؟ عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے کہا کہ ائیرایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں۔
سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل ملک قمرافضل نے دوران سماعت عدالت کو بتایاکہ 2013 کے الیکشن میں انتخابی کاغذات نامزدگی فارم عدالتی فیصلے کی روشنی میں مسترد کئے گئے اورسندھ ہائیکورٹ نے میری غیرموجودگی میں فیصلہ سنایا۔
ملک قمر افضل نے عدالت سے استدعا کی کہ پرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی فارم بحال کیے جائیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔
گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ٹرائل کیلئے دو روز میں خصوصی عدالت قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے نادرا کو سابق صدر کے بلاک کئے گئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کھولنے کی ہدایت کی تھی۔
