کینزس: سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چاند نئے دور میں داخل ہو گیا ہے جسے لونر(قمری) اینتھروپوسین کا نام دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے چاند کی سرزمین کو بدلا ہے اور اس حد تک بدلنے کا ارادہ کیا ہے کہ یہ مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹ) کے نئے دور کے طور پر سمجھا جائے۔
انسانیت کا آئندہ برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے اور جس میں چاند کی سطح پر واپس جانا اور انسانوں کو دوبارہ اتارنا شامل ہے۔
محققین کے مطابق اس دور کی ابتدا 1959 میں ہوئی جب روس کا لُونا 2 خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا اسپیس کرافٹ بنا۔ یہ خیال بالکل زمین پر اینتھروپوسین کے متعلق ہونے والے مباحثے جیسا ہے جس میں یہ مطالعہ کیا گیا کہ انسانوں نے اس سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے۔
سائنسدانوں نے کہا کہ قمری اینتھروپوسین کی ابتدا ہوچکی ہے لیکن سائنسدان چاند کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں یا اس کی شناخت کو اس وقت تک قائم رکھنا چاہتے ہیں جب تک سائنسدان انسانی سرگرمیوں کے سبب بننے والے چاند کے ہالے کی پیمائش کر سکیں لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ انسان چاند کی سطح پر پہلے ہی بہت کچرا پھیلا چکا ہے۔ اس کچرے میں پہلی بار چاند پر اترتے وقت گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں جو وہاں پر چھوڑے گئے تھے۔ اس میں انسانی فضلا اور دیگر کچرا بھی شامل ہے۔ انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور لوگ اس سطح کو کھود کر وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
