اسلام آباد(زاہد گشکوری، ہیڈ ہم انویسٹی گیشن ٹیم)بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے سویلینز کے فوجی عدالتوں کے ٹرائل کیلئے تشکیل بینچ پر اعتراض کیا۔
ہم عوام پاکستان پارٹی نے انتخابی نشان بلے کے حصول کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرادی
جسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس مظاہراکبر نقوی کی درخواست کیلئے تشکیل بینچ پر بھی اعتراض کیا۔خط میں لکھا گیا ہے کہ 7دسمبر کو 4 بجے چیف جسٹس پاکستان کے آفس میں اجلاس ہوا۔
اجلاس کا ایجنڈامجھے متعدد مرتبہ رابطوں کے بعد دیا گیا ،فوجی عدالتوں کے ٹرائل کے مقدمے میں مجھے بتایا گیا 7 رکنی بینچ تشکیل دیا جائے گا۔
پسند نہ پسند کے تاثر سے بچنے کیلئے میرا موقف تھا تمام سینئرز کو بینچ میں شامل کیا جائے۔چیف جسٹس نے میری تجویز کو ججز کی آمادگی کے ساتھ مشروط کردیا۔
15دسمبر کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے،چیف میٹرولوجسٹ
اسی اصول پر جلد سماعت کی درخواستوں پر بھی اتفاق کیا گیا،کمیٹی کی جانب سے 2مقدمات کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔
ان 2 خصوصی بینچز کی تشکیل کو کمیٹی میں رکھا جاتا تو میں اپنی رائے دیتا ،کمیٹی اجلاس میں 7رکنی بینچ پر اتفاق کی بجائے6رکنی بینچ تشکیل دیدیا گیا۔
سینئر ججز کے بینچ میں شامل نہ ہونے کے حوالے سے میں مکمل اندھیرے میں ہوں ۔3رکنی خصوصی بینچ کی تشکیل میں بھی سینیارٹی کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
عدالتی وقار اور شفافیت کے مد نظر سینارٹی کے اصول کو مد نظر رکھنے پر اتفاق کیا۔یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ ججز کا موقف لینے کے بعد کمیٹی ممبران کو آگاہ کیا جائے گا۔
نگران وزیراعظم نے نئے ویزا نظام کا افتتاح کر دیا
2مرتبہ کالز کرنے کے بعد بتایا گیا کہ فائل چیف جسٹس کے چیمبر میں منظوری کیلئے گئی ہے۔انتظار کرنے کے باجود 6:30 پرکال کرنے پر بتایا گیا کہ رجسٹرار صاحبہ جا چکی ہیں۔
چوتھی اور پانچویں کمیٹی اجلاس کے منٹس نہ تو بھجوائے گئے نہ دستخط لئے گئے،ان منٹس کو بغیر میری منظوری سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیا گیا۔
