راولپنڈی: بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوارپارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، لیکن سابق وزیرداخلہ چودھری نثار نے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست ہی نہیں دی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے ایک اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
چودھری نثار نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر رکھے ہیں۔ اسی حلقے سے تحریک انصاف کے غلام سرور خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری کامران اسلم نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے ابھی تک کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی حاصل نہیں کیے ہیں۔
انتخابی میدان میں چودھری نثار کا شمار مسلم لیگ ن کے مضبوط ترین امیدواروں میں ہوتا ہے۔ نواز شریف سے مبینہ ناراضگی یا اختلاف رائے کے باعث چودھری نثار نے ٹکٹ کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی ہے حالانکہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کی جانب سے امیدواروں کے انٹرویوز بھی کیے جا رہے ہیں۔
ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے چند روز قبل ایک بیان میں چوہدری نثار علی خان میں بچپنے کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں منانے کا ذکر کیا تھا تا ہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کے صدر کی حیثیت سے پارٹی رہنما چودھری نثار کو ٹکٹ ضرور دیں گے۔
چودھری نثار نے این اے 63 سے بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے لیکن اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے سردار ممتازخان نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست بھی جمع کروا رکھی ہے جس کے بعد ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ نے سردارممتاز کو آج انٹرویو کے لئے لاہور بلا لیا ہے۔
سابق وزیرداخلہ نے پنجاب اسمبلی کے حلقوں پی پی دس اور 14 سے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ابھی تک کاغذات نامزدگی حاصل نہیں کیے ہیں۔
