اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک گھنٹے میں عدالت عظمی میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کے روز مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت کی جانب سے گزشتہ سماعت کے موقع پر جاری کردہ نوٹسز کی تعمیل کا معاملہ دیکھا گیا۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نوٹس تعمیل کے باوجود پیش نہ ہونا عدالت کی تکریم کے خلاف ہے، تمام افراد ایک ہفتے تک اپنے تحریری جواب جمع کرائیں۔
اس موقع پر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ میں نواز شریف کا نام تین الگ الگ جگہوں پر ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر تاریخ کا نواز شریف کو الگ الگ جواب دینا ہو، انہیں ہر صورت شامل تفتیش ہونا پڑے گا۔
نواز شریف کو فوی طلب کرنے کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ممکن ہے نواز شریف اس وقت احتساب عدالت میں ہوں، نوازشریف کا ٹرائل میں پیش ہونا بھی ضروری ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نوازشریف خود نہیں آسکتے تو نمائندہ بھیج دیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جاوید ہاشمی آ سکتے ہیں تو نوازشریف کیوں نہیں؟ عدالت نے ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل اور جاوید ہاشمی، نواز شریف سے رابطہ کریں۔ نوازشریف کو 11 بج کر 45 منٹ تک پیش ہونے کا کہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پشاور رجسٹری میں سماعت کے لیے بھی جانا ہے، پشاور سے واپسی ممکن ہےرات ایک بجے ہو اگر نوازشریف ابھی نہ آئے تو رات ایک بجے پیش ہونا ہوگا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریری جواب آنے کے بعد اتوارکو مزید سماعت کریں گے جس میں تعین کیا جائے گا کہ کس کا ٹرائل فوج میں ہونا ہےاورکن کا سویلین اداروں میں، سویلین افراد کو ایف آئی اے کےسامنے پیش ہونا ہوگا۔
مقدمہ کی سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے عدالت نے جاوید ہاشمی کوجانےکی اجازت دے دی۔
