لاہور: لاہورہائی کورٹ نے کاغذات نامزدگی میں کی گئی ترمیم کالعدم قرار دیتے ہوئے پرانا فارم بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی مرضی سے فارم میں تبدیلی کا حق ہے، یہ فاق کا کام نہیں ہے۔ دوران سماعت سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ وفاق قانون سازی کا اختیار رکھتا ہے تاہم عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ تبدیلی کا اختیارصرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن دہری شہریت پرمعلومات لے سکتا ہے، دہری شہریت، فوجدای مقدمات میں ملوث افراد الیکشن نہیں لڑسکتے۔
اس سے پہلے پارلیمنٹ نے فارم میں تبدیلی کرکے قرضے، دیوانی و فوجداری مقدمات اوردہری شہریت سمیت بہت سی شقیں کاغذات نامزدگی کے فارم سے خارج کردی تھیں، الیکشن کمیشن نے ان تبدیلیوں کی مخالفت کی تھی لیکن اس کی بات نہیں مانی گئی۔
پارلیمنٹ اور وفاق کے اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ نئے انتخابی قوانین میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی آئین کے آرٹیکل 222 کی خلاف ورزی ہے۔