پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مایوسی کی لہر ہے، آٹھ ماہ سے جو ہو رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
آن لائن خطاب میں انہوں نے کہا کہ تیس سال سے دو خاندان ملک پر قابض ہیں، پی ڈی ایم کا پیسہ بنانے اور بچانے کے سوا کوئی ویژن نہیں۔ موجودہ حکومت الیکشن نہیں آکشن سے آئی، الیکشن کا سن کر ان کی کانپیں ٹانگنا شروع ہو جاتی ہیں۔
عمران خان کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروئی جاری رکھنے کی اجازت
عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے تو ڈیفالٹ کر جائیں گے، گئے تو غربت بڑھ جائے گی، ملک جہاں جا رہا ہے خوف آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے منسلک ہے، کان جہاں سے مرضی پکڑیں، حل صرف انتخابات ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایکسپورٹ بڑھائے بغیر ایشین ٹائیگر اور لاہور کو پیرس کیسے بنا سکتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹرز کی مشکلات کو کم کرنا بہت ضروری ہے، ہماری حکومت نے تین ارب ڈالرکی کورونا ویکسین منگوائی، میڈیا میں ہمارے خلاف ناکام ہونے کا پروپیگنڈا کیا گیا۔
انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ چھوڑ کر گئی، ان کے دور میں تیل کی قیمتیں بھی کم تھی اس کے باوجود بڑا خسارہ چھوڑ کر گئے، ان کے دور میں ایکسپورٹ نہیں بڑھی تھی۔
عمران خان کا کہنا تھا اسحاق ڈار کے دبئی میں 100،100 ملین ڈالر کے ٹاور ہیں، نیب ترمیم کے بعد بڑے چوروں کو لائسنس دے دیا گیا ہے۔
مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے انصاف کے نظام پر اعتماد نہیں، ملک میں رول آف لا ہو گا تو انویسٹمنٹ آئے گی، اب وہ قدم اٹھانے پڑیں گے جو پہلے نہیں اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دو خاندان اقتدارمیں آ کر ادارے کمزور کرتے ہیں، امریکا، یورپ میں ادارے مضبوط ہیں وہاں کوئی چوری نہیں کرسکتا،
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل باجوہ ہر فن مولا بن گئے تھے، وہ ہمیں کہتے تھے اکانومی پر توجہ دیں، احتساب کو بھول جائیں، ان کو نہیں پتا تھا جن ملکوں میں این آر او دیا جاتا ہے وہاں غربت ہے، جن ملکوں میں خوشحالی وہاں پہلے رول آف لا قائم ہوا، انہی دو خاندانوں کے دور میں ہی ملک پر قرضے چڑھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ لیکچر دیتے تھے ان کو این آر او دے دو اور آپ اکانومی پر توجہ دیں، رول آف لا اکانومی کے ساتھ منسلک ہے۔
