اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو چیلنج کر دیا۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی کی بے گناہی کے ثبوت دنیا بھر سے آ رہے ہیں اور شریف فیملی کے خلاف جو مقدمات تھے ان کے میرٹ پر فیصلے آئے ہیں۔ شہباز شریف پر سیلاب متاثرین کے لیے گرانٹ میں خوردبرد کا الزام لگایا گیا تھا اور الزام کو 5 بار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور شہزاد اکبر نے ڈیلی میل کے صحافی سے ملاقات کی اور شہباز شریف کے خلاف کہانی کا اسکرپٹ صحافی کو دیا گیا۔ شہباز شریف کے خلاف جب کوئی ثبوت پیش نہ ہوا تو انہوں نے معافی مانگ لی۔ اب عمران خان اور شہزاد اکبر کو بھی شریف فیملی اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ذاتی عناد، انتقام اور انا کی تسکین کے لیے عمران خان نے مخالفین کے خلاف مقدمات بنائے اور بطور وزیر اعظم ملک کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اے این ایف کو بھی استعمال کیا اور اب اے این ایف پوری دنیا میں اپنی صفائیاں دیتا پھر رہا ہے۔
انہوں نے پاکستانی قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو پہچانیں کیونکہ یہ جعل ساز لوگ ہیں اور انہوں نے ساری زندگی یہی کیا ہے۔ عمران خان نے ملک کا وزیر اعظم بن کر ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم پاکستانی کرپشن سےجنگ میں سرخرو ہوں گے، شہباز شریف
وزیر داخلہ نے کہا کہ گھڑی سے متعلق آڈیو کی پی ٹی آئی کی طرف سے تردید ہوئی لیکن بات گھڑی کی نہیں بلکہ پوری توشہ خانہ کے تحائف بیچے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام قانون سازی کرنا ہے۔ نیب کو بہتر بنانے اور سیاسی طور پر استعمال ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اچھی ساکھ رکھنے والی شخصیت کو نیب کا چیئرمین بنائیں گے۔
پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی بھر پور تیاری کی ہے اور ہر حلقے کے 2 امیدواروں کو میدان میں لائیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گے اور عمران خان کو چیلنج کرتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کریں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان نے مایوسی میں جو اعلان کیا اب اس پر عمل کریں اور فواد چودھری اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخیں نہ دیں۔ آج سے نوازشریف کی وطن واپسی کے استقبال کی تیاری شروع کر دی ہے اور نواز شریف کی قیادت میں انتخابی مہم چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا میرا انتظار کرو میں آرہا ہوں اور میں انتظار ہی کرتا رہ گیا لیکن عمران خان نہیں آئے۔ عمران خان نے اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی بھی جرات نہیں کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم اسمبلیاں توڑوانے کے حق میں نہیں ہیں اور عام انتخابات اکتوبر میں ہی ہوں گے لیکن اگر صوبائی اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں تو انتخابات 90 روز میں ہوں گے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام کو کوئی ایک جماعت ٹھیک نہیں کرسکتی۔
