اسلام آباد: پاکستان کی قومی اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر سال 15 رمضان المبارک یوم یتامیٰ(یتیموں کا عالمی دن) کے طور پر منایا جائے۔
قومی اسمبلی نے یہ مطالبہ متفقہ طور پرمنظور کردہ قرارداد میں کیا ہے۔ قرارداد رکن قومی اسمبلی ملک ابرار کی جانب سے پیش کی گئی۔
ملک ابرار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مؤقف اپنایا کہ انہیں قواعد معطل کرکے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر اسمبلی نے قواعد معطل کرکے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی۔
اجلاس میں پیش کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری و غیر سرکاری طورپر 15 رمضان المبارک یوم یتامیٰ کے طورپر منایا جائے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر یتیموں کے مسائل اجاگر کیے جائیں۔
اِسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے دسمبر2013ء میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی مددگار تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پر تمام اسلامی ممالک میں 15 رمضان کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس فیصلے کو دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں و تنظیموں نے سراہا اوراس پر عمل کیا۔
ملک ابرار کی پیش کردہ قرارداد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں یتیموں کی تعداد 42 لاکھ ہے اورمختلف وجوہات کی بنا پر یتیموں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
2017 میں اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف نے جو رپورٹ جاری کی تھی اس کے تحت پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد 42 لاکھ کے قریب تھی ۔ اعداد و شمار کے مطابق ان یتیم بچوں کی عمریں 17 سال سے کم تھیں۔
یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے اداروں نے پاکستان میں یتیم بچوں کے مسائل اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور اجاگر کرنے کے لئے2015 میں ’پاکستان آرفن کیئر فورم‘ تشکیل دیا اور فیصلہ کیا کہ ہر سال 15 رمضان کویوم یتامیٰ کے طور پر منایا کرے گی ۔
پاکستان آرفن کئیر فورم میں ایدھی ہومز، الخدمت فاؤنڈیشن، ہیلپنگ ہینڈ، مسلم ایڈ، اسلامک ریلیف پاکستان، ہیومن اپیل، قطر چیرٹی، ریڈ فاؤنڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملت فاؤنڈیشن اورانجمن فیض الاسلام شامل ہیں۔
صراط الجنت ٹرسٹ، حبیب فاؤنڈیشن، سویٹ ہومز، مسلم ہینڈز، فاؤنڈیشن آف دی فیتھ فل، دارالشفقت (انجمن حمایت اسلام) ایس او ایس، حمزہ فاؤنڈیشن، رائزنگ سن اورسویٹ ہومز بھی پاکستان آرفن کیئر فورم کا حصہ ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ہر 30 سیکنڈز میں دو بچے دنیا میں یتیم ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً 13 کروڑ 20 لاکھ بچے یتیم ہیں جن میں سے صرف چھ کروڑ یتیم بچے ایشیائی ہیں۔
اعداد و شمار کے تحت ایک کروڑ 30 لاکھ بچے ایسے ہیں جن کے ماں اور باپ دونوں نہیں ہیں اور 95 فیصد یتیم بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں۔
ماہرین یقین رکھتے ہیں کہ اگر یتیم بچے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائیں تو وہ اتنی بڑی ہوسکتی ہے کہ پوری دنیا کے گرد حصار بن جائے۔
