کراچی: قومی احتساب بیورو(نیب) کراچی نے غیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں سیکرٹری بلدیات سندھ رمضان اعوان کے خلاف دستاویزی ثبوت حاصل کر لیے ہیں۔
نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیب نے کارروائی کر کے ایسے دستاویزی شواہد حاصل کر لیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان اعوان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 سے زائد افراد کو غیرقانونی طور پر بھرتی کیا۔
شواہد کے مطابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ممتاز حیدر نے 27 اکتوبر 2015 میں کی گئی ان بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، اس وقت کے سیکرٹری بلدیات عمران عطا سومرو نے بھی تحقیقات کے بعد بھرتیوں کو میرٹ اور قواعد و ضوابط کے منافی قرار دیا تھا لیکن موجودہ سیکریٹری بلدیات نے ان سفارشات کو دبا دیا۔
نیب کا کہنا ہے کہ ان افسران کی بھرتی سے اہم پوسٹوں پر تعیناتی بھاری رشوت یا سیاسی دباؤ کے تحت کی گئی ہے، شواہد کے مطابق ان میں سے 260 سے زائد افسران گریڈ 17 اوراس سے اوپر کے ہیں۔
نیب کے مطابق سیکرٹری بلدیات کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔
