یوکرین کے حملے کے جواب میں روسی تیل اور توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے امریکی ایوان میں ووٹنگ ہوئی، جس میں قانون سازوں نے بھاری اکثریت میں اس پابندی کے حق میں ووٹ دیے۔
قانون سازی جو 414 کے مقابلے میں 17 ووٹوں سے منظور ہوئی، اب حتمی فیصلے کے لیے سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔ تاہم اس کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
سینٹ میں اکثریت پارٹی کے لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پہلے امریکی صدر بائیڈن سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
یہ اقدام امریکی صدر کی جانب سے روسی توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے حکم پر دستخط کیے جانے کے ایک دن بعد ہی سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا یوکرین کے لیے 600 ملین ڈالر کی فوری عسکری مدد کا اعلان
بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا لیکن انہوں نے مزید کہا کہ شاید یورپی ممالک روس کی توانائی کی درآمدات پر پابندی لگانے میں امریکہ کے ساتھ شامل ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی کا مقصد روس پر دباو ڈالنا ہے تاکہ وہ یوکرین جنگ بند کرے۔
وائٹ ہاوس سے جاری پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم روس سے تیل اور گیس کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہے ہیں، جس کا مطلب روس کا تیل امریکی بندرگاہوں پر قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اس اقدام سے صدر پیوٹن کو ایک بڑا دھچکہ لگے گا۔
خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس کے تیل اور گیس پر پابندی عائد کی گئی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔
