اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے اپنے پتے کھیل لیے اب ہماری باری ہے۔
جنوبی صوبہ پنجاب کے قیام کی آئینی ترمیم پیش کرنیکا اعلان
ہم نیوز کے مطابق شہباز گل نے یہ بات وزیراعظم عمران خان کے خلاف جمع کرائی جانے والی تحریک عدم اعتماد اور اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن کی سازش کو بے نقاب نہ کیا تو یہ عوام سے زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایسا منشور لے کر آئی جو کسی کے پاس نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت ملکی معیشت تباہ کر کے گئی۔
شہباز گل نے کہا کہ احتساب ہمارے منشور کا حصہ تھا جس پر ہم گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ جس دن میں نے ان پر ہاتھ ڈالا اس دن تمام چور اکٹھے ہو جائیں گے۔
تحریک عدم اعتماد، 172 سے زائد ووٹ لیں گے، اپوزیشن کے تین بڑوں کا اعلان
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے مغربی تہذیب کو یہاں پھیلایا ہے اور کہا گیا کہ عمران خان مغربی ایجنڈے کو لے کر چلتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی کہا گیا کہ عمران خان نے مغربی ممالک کو ناراض کیا۔
شہباز گل نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ کا وزیراعظم پاکستان کے وزیراعظم سے ملنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ کسی کو فالو کرنا ہے تو عمران خان کو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چوروں کو پاکستان ، ملکی معیشت اورغریب کی نہیں، صرف اپنے کیسز کی فکر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اپوزیشن پہلے سینیٹ میں ناکام ہوئی، اب قومی اسمبلی میں بھی ناکام ہو گی۔
ہارا ہوا لشکر اس دفعہ بھی ہارے گا، یہ لوگ میڈیا پر حکومت گراتے ہیں: مراد سعید
فرخ حبیب نے اپوزیشن پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ جب یہ منی لانڈرنگ کررہے تھے تو اس وقت ان کا قومی مفاد کہاں تھا؟
وفاقی وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان نہ صرف پانچ سال پورے کریں گے بلکہ آئندہ پانچ سال بھی وزیراعظم رہیں گے۔
وزیراعظم نے کارڈ چھاتی سے لگا کر رکھے ہیں، عمران خان ہی میچ جیتیں گے: شیخ رشید
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں میلسی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ آپ جو بھی کریں گے، میں اس کے لیے تیار ہوں لیکن تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد جو میں آپ کے ساتھ کروں گا، کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں؟
