برسلز: یورپی یونین نے روس کی جانب سے یوکرین پر کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ روسی جارحیت کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ روس کو عالمی تنہائی کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔
روس نے یوکرین کے ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا
واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کی امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، اقوام متحدہ اور نیٹو نے سخت مذمت کی ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں نیٹو نے کہا ہے کہ کل مغرب کے دفاعی اتحاد کا سربراہی اجلاس ہو گا۔ نیٹو نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر جاری کارروائی کا خاتمہ کیا جائے۔
روس کا یوکرین پر حملہ: 8 افراد ہلاک، متعدد زخمی
نیٹو نے اس ضمن میں کہا ہے کہ روس محض طاقت کے بل پر تاریخ ہی بدلنا چاہتا ہے اور اس کے لیے یوکرین سے اس کی آزادی و خودمختاری بھی چھین رہا ہے۔

نیٹو کے چیف جینز اسٹولٹن برگ نے اسی حوالے سے کہا ہے کہ شمالی امریکہ اور یورپ کے اتحادیوں نے نیٹو کے مشرقی رکن ممالک میں ہزاروں فوجیوں کو تعینات کرکے فوجی دستوں کو تیار رہنے کے احکامات بھی جاری کردیے ہیں۔
روس کا یوکرین پر حملہ ناقابل قبول ہے، رجب طیب ایردوان
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور نیٹو پہلے ہی واضح طور پر اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اپنے فوجی دستوں کو یوکرین نہیں بھیجیں گے۔
جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ ہماری فضائی حدود کی حفاظت کے لیے اس وقت 100 جنگی لڑاکا طیارے ہائی الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ بحیرہ روم میں بھی اتحادیوں کے 120 جنگی جہاز موجود ہیں۔
نیٹو سربراہ نے پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال اورغور و خوص کے لیے نیٹو کا ورچوئل سربراہی اجلاس بھی کل طلب کرلیا ہے۔
یوکرین پرحملے سے قبل روسی صدر نے کسے فون کیا؟
یاد رہے کہ یوکرین چونکہ یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک نہیں ہے اس لیے ان کی افواج براہ راست یوکرین کی مدد کے لیے اپنی افواج کو وہاں بھیج نہیں سکتے ہیں۔
