کیو: روس اور یوکرین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع میں جیسے جیسے شدت آ رہی ہے تو لوگوں کی توجہ کا مرکز دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے ساتھ ساتھ ایک صحافی بھی بن گیا ہے۔
روس 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرسکتا ہے: امریکہ نے یوکرین کو بتادیا
ہم نیوز نے مؤقر انگریزی اخبار عرب نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی فلپ کروتھر نے سب کی توجہ اپنی جانب اس لیے مبذول کرالی ہے کہ وہ دنیا کی چھ زبانوں میں مختلف ٹی وی چینلز پر تنازع کو رپورٹ کر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق صحافی فلپ کروتھر کو اس وقت دنیا کے چھ مختلف نیوز چینلز پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے تحت ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو کو تقریباً دو لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔
روسی اقدام سے ورلڈ آرڈر کو خطرہ ہے، پیوٹن کو روکنے کا آخری موقع ہے: یوکرینی وزیر خارجہ
عرب نیوز کے مطابق امریکی نیوز ایجنسی ایسوی ایٹڈ پریس کے فلپ کروتھر کو چھ مختلف نیوز چینلز پر دیکھا گیا ہے جہاں وہ چھ مختلف زبانوں میں بات کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ان کی اس ویڈیو کو جلد ہی دو کروڑ کے قریب لوگوں نے دیکھا۔
Six-language coverage from #Kyiv with @AP_GMS. In this order: English, Luxembourgish, Spanish, Portuguese, French, and German. pic.twitter.com/kyEg0aCCoT
— Philip Crowther (@PhilipinDC) February 21, 2022
فلپ کروتھر جو امریکی خبر رساں ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں کے والد کا تعلق برطانیہ سے تھا جب کہ ان کی والدہ جرمنی سے تھیں۔ ان کی پیدائش لکسمبرگ میں ہوئی تھی۔ وہ انگریزی، جرمنی اور لکسمبرگ جیسی زبانوں پر بچپن سے عبور رکھتے ہیں۔
روس یوکرین تنازع، امریکہ کی جانب سے روس پر تجارتی پابندیاں عائد
اس وقت وہ یوکرین کے چینل نیوز نیشن ناؤ کے لیے انگریزی میں رپورٹ کررہے ہیں جب کہ وہ آرٹی ایل پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔
روس یوکرین تنازع کو وہ ڈی ڈبلیو سپینش کے لیے ہسپانوی زبان میں رپورٹ کرتے رہے ہیں جب کہ انہیں با آسانی پرتگالی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بھی رپورٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسلحے سے لیس روس مخالف یوکرین قابل قبول نہیں، صدر پیوٹن
عرب نیوز کے مطابق فلپ کروتھر نے کنگز کالج لندن سے ہسپانک اسٹڈیز میں گریجویشن کیا جس کے بعد لندن کالج آف کمیونی کیشن سے براڈ کاسٹ جرنلزم میں ڈپلومہ کیا ہے۔
