لاہور: ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا ہے کہ سندھ میں وڈیروں و جاگیرداروں کی حکومت ہے اور پیپلزپارٹی نے سندھ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایم کیو ایم کا نام ختم کر کے کسی اور نام سے سیاست کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
خالد بھائی! تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، بہادرآباد میں کہا بڑا فیصلہ کرنے آیا ہوں: فاروق ستار
ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرسابق میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
عامر خان نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے پنجاب آئے ہیں اور یہاں آنے کی ذمہ داری خالد مقبول صدیقی نے سونپی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ایشوزکے حل کے لیے ہماری آواز میں آواز ملائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مولانا فضل الرحمان سے بات ہوئی ہے، کل شہبازشریف سے ملاقات کریں گے اور چودھری شجاعت حسین کی عیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، برداشت پیدا کرنی چاہیے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دروازے تمام لوگوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار کے لیے دروازے کھلے ہیں، جب چاہیں آسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اتنا ہی بوجھ اٹھائیں گے جتنا ہمارا شیئر ہے۔
سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے، سپریم کورٹ
ایک سوال کے جواب میں عامر خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کس بات پر اتفاق ہوا ہےعلم نہیں ہے، جب ہمیں معلوم ہو گا تو ہم سوچیں گے۔
حکومت سندھ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ پورا صوبہ موہنجودڑو کا منظر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں غریب ہاری کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے اور دو وقت کی روٹی بھی غریب کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی ایم کیو ایم شدت پسندی پر یقین نہیں رکھتی ہے۔
عامر خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سندھ بلدیاتی ایکٹ کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے لیکن صوبوں نے اختیارات مقامی سطح پر منتقل نہیں کیے۔
براہ راست بلدیاتی الیکشن زیادہ قابل عمل نہیں، وزیراعلیٰ سندھ
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ سے کہا تھا کہ ہم پرامن احتجاج کریں گے لیکن ہماری یقین دہانی کے باوجود بد ترین لاٹھی جارج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول ایک دم گرم ہو گیا ہے جب کہ مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
