پاکستان کا دورہ اچانک منسوخ کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اسلام آباد سے روانہ ہو گئی۔
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو لینے کیلئے خصوصی طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا تھا، ٹیم یو اے ای کے لیے روانہ ہوئی ہے جہاں سے وہ نیوزی لینڈ جائے گی۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم کے روانگی سے قبل پی سی آر ٹیسٹ کرائے گئے، کھلاڑیوں اور عملہ پر مشتمل 33 رکنی اسکوارڈ کے ٹیسٹ منفی آئے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کھیلنے کے لیے آئی تھی، ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرفہ طور پر سیریز منسوخ کی ہے۔ مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈن نے کرکٹ ٹیم کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم تھی۔
انہوں نے کہا کہ’ میں نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا‘۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نےجیسینڈا آرڈن سے ٹیلیفون پر بات بھی کی تھی مگر پھر بھی ٹیم کو واپس بلا لیا گیا۔
عمران خان نے کہا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں اور ان کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کے خطرہ نہیں ہے، تاہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ازحد احتیاط کی پالیسی کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں بھی جانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے انہیں دورہ منسوخ کرنے کی مکمل وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز ہونا تھی۔
