کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس کے بدعنوان افسران کے خلاف کارروائی کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے آئندہ دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت عظمیٰ نے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون شاہد حیات کو بھی طلب کرلیا۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس ثنااللہ عباسی نے کراچی رجسٹری میں پولیس افسران کے خلاف نئی انکوائری رپورٹ پیش کی۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کتنے بڑے افسران کے خلاف کارروائی ہوئی؟
ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سنگین جرائم میں ملوث 17 اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف انکوائری وفاق کے پاس ہے، چھ افسران کے خلاف انکوائری مکمل ہوچکی ہے اور ایک پولیس افسر جیل میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں چار ہزار غیرقانونی بھرتیوں کی نشاندہی ہوئی۔ سابق آئی جی سندھ، چار ڈی آئی جیز اور دیگر درجنوں افسران کے خلاف تحقیقات کی گئیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ جن افسران کے خلاف کارروائی ہوئی وہ رپورٹ پیش کی جائے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس پر کہا کہ سیکشن افسر نے ادھوری رپورٹ بھیجی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں وفاق کو کتنے افسران کی فہرست ملی؟ کتنے افسران کے خلاف کارروائی ہوئی؟ کتنی زیرالتوا ہے؟
عدالت عظمیٰ کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بعض افسران کے خلاف سابق ایف آئی اے افسر شاہد حیات تحقیقات کررہے ہیں۔
سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ سابق آئی جی غلام حیدر جمالی، سید سلمان، فدا حسین شاہ، شہاب مظہر ملیح، اعتزاز گورائیہ، اظفر احسن، عمر طفیل اور خالد مصطفی کورائی کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پولیس افسران کے خلاف ریفرنس نیب کورٹ میں دائر کردیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ کتنے اضلاع میں تحقیقات باقی ہیں؟
ایڈیشنل آئی جی سندھ ثنااللہ عباسی نے عدالت کو بتا یا کہ آٹھ باقی رہ جانے والے اضلاع میں بھی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غیرقانونی بھرتیوں میں ملوث پولیس افسران کے نام حکومت سندھ کو بھیج دیے ہیں۔
سپریم کورٹ نے آئندہ دو ہفتوں کے لیے سماعت ملتوی کردی۔
