بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں کی متنازع ڈیل کی تحقیقات فرانسیسی جج کریں گے ۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جج کی تعیناتی فرانس کے نیشنل فنانشل پروسیکیوٹر کی طرف سے کی گئی، متنازع ڈیل میں کرپشن اور کک بیکس کی تحقیق کی جائے گی.
رپورٹ کے مطابق ڈیل کے تحت بھارت نے 9 ارب تیس کروڑ ڈالر کے عوض فرانس سے 36 رافیل طیارے خریدے تھے۔
فرانسیسی میڈیا اور ایک این جی او نے 2016 میں ہونے والی ڈیل کے لیے فرانسیسی کمپنی پر بھارتی حکام کو رشوت دینے کا الزام لگایا تھا۔
مالی جرائم میں مہارت رکھنے والی فرانس کی این جی او شیرپا 2018 سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے ۔
فرانسیسی صدر سے معصوم طالبعلم کاسوال،آپ! تھپڑ کھانے کے بعد ٹھیک ہیں؟
اس معاہدے کے بعد کانگریس نےبی جے پی کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے زیادہ قیمت پر طیاروں کا سودا کیا ہے۔
کانگریس کے مطابق یو پی اے حکومت نے جو معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق ایک طیارہ 526 کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا جب کہ مودی حکومت نے ایک طیارہ 1670 کروڑ روپے میں خریدا ہے۔
کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد مودی حکومت پر تنقید کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’رافیل اسکیم‘ کا استعمال کرتے ہوئے اشارتاً لکھا ’چور کی داڑھی‘۔
فرانس میں تحقیقات کے لیے جج کے تقرر کی رپورٹ کے بعد کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سودے کی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائے۔
