اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ آر یا پار کی باتیں کرنے والوں کے مقدر میں تخت نہیں جیل ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن اگلے تین سال تک اپنے سیاسی نصیب پر صبر کرے۔ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ 2018 کے عوامی فیصلے کی نفی نہیں کر سکتی ہے۔
آر پار کی باتیں کرنے والوں کے مقدر میں”تخت نہیں جیل “ہے۔ اپوزیشن اگلے تین سال تک اپنے سیاسی نصیب پر صبر کرے۔ پی ڈی ایم 2018 کے عوامی فیصلے کی نفی نہیں کرسکتی۔ یہ اقتدار سے محروم متاثرین کا اجتماع ہے۔ غیر منتخب لوگوں کا منتخب نمائندوں پر استعفی کے لئے دباﺅ ڈالنا جمہوریت نہیں ہے۔
— Senator Shibli Faraz (@shiblifaraz) December 7, 2020
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقتدار سے محروم متاثرین کا اجتماع ہے۔ غیر منتخب لوگوں کا منتخب نمائندوں پر استعفیٰ کے لیے دباوَ ڈالنا جمہوریت نہیں ہے۔
دوسری جانب پاکستان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر استعفے دیے تو پھر بھول جائیں کہ ضمنی الیکشن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جلسوں کا سلسلہ پرانا ضرور ہے لیکن اس مرتبہ آر یا پار ہو گا۔
مزید پڑھیں: جعلی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، مریم نواز
پی پی کے مرکزی رہنما قمر الزماں کائرہ سمیت پی ڈی ایم کے دیگر مقامی رہنماؤں کے ہمراہ لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور جلسے سے نواز شریف کا فیصلہ کن خطاب ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جلسہ مینار پاکستان پر ہی ہو گا۔ جب قیادت فیصلہ کرے گی تو استعفے دیں گے
ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 13 دسمبر کو ہر صورت میں لاہور میں جلسہ ہو گا۔ تصادم کی صورت میں عمران خان ذمہ دار ہوں گے۔
پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام پی ڈی ایم جماعتیں جلسے کے لیے تیار ہیں اور پورے ملک سے لوگ جلسے میں شرکت کے لیے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تابعداری کی سیاست نہیں چلے گی اورعوام کی بات ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جلسے میں کوئی رکاوٹ ڈالی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
