واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں دنیا کے سب سے طاقتور حکمران کا انتخاب کیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چھٹی ہو گی یا انہیں مزید 4 سال ملیں گے اس کا فیصلہ آج امریکی عوام کررہے ہیں۔
ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن اور ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آج کڑا مقابلہ ہو گا۔ دنیا نے اپنی نظریں امریکہ پر جما لی ہیں۔ 9 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد پہلے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں جس میں ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کو واضح برتری حاصل ہے۔
تجزیاں کاروں کا کہنا ہے کہ 2020 کے امریکی انتخابات میں 15 سے 16 کروڑ امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جو کسی بھی سابقہ انتخابات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہو گا۔
واضح رہے کہ ارلی ووٹ میں صدارتی امیدوار جوبائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں 7 ریاستوں سے برتری حاصل ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق جو بائیڈن نے اپنی پہلی فتح حاصل کر لی ہے۔ نیو ہیمپشائر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تمام پانچ ووٹ بائیڈن کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔ یہ گاؤں سب سے پہلے نتائج کا اعلان کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
ڈیکسوِل نوچ نامی یہ گاؤں امریکہ اور کینیڈا کے بیچ سرحد میں واقع ہے۔ یہاں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ووٹ ڈالے گئے تھے
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں صدارتی انتخابات کا طریقہ کار کیا ہے؟
برطانوی اخبار گارجین کے مطابق جوبائیڈن کو فلوریڈا، پینسلوانیہ، مشی گن اور شمالی کیرولائینا میں ٹرمپ کے مقابلے میں برتری حاصل ہے۔ انتخابی جائزے کے تحت ایری زونا، ویسکونسن اور ایووا میں بھی جوبائیڈن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں آگے ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق پورے امریکہ میں جوبائیڈن 43 فیصد کے مقابلے میں 51 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔
