اسلام آباد: وزیراطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں تقریرکورونا سےعالمی سطح پردرپیش حالات سے مکمل لاعلمی کا مظہر ہے۔
اپنے ایک بیان میں شبلی فراز نے کہا کہ خواجہ آصف کا بیان تضادات کا مجموعہ اور حقائق کومسخ کرنے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن اپنی سیاست کے لیےعوام کی زندگیوں سےنہ کھیلے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی شعبدہ بازپارلیمان کا فورم استعمال کر کےعوام کو گمراہ نہیں کرسکتے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے وطن عزیز کے اداروں کو تباہ حال کرکے بے سمت کیا۔ وزیراعظم عمران خان نےملک کی سمت درست کرکےخوشحالی اورترقی کی راہ پرڈال دیاہے۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے لاک ڈاوَن سےمتعلق مختلف بیانات دیے۔ وزیراعظم کہتے رہے ہیں کہ جیسا چاہتا تھے ویسے لاک ڈاوَن نہیں ہوا۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق اسد عمر نے کہا یہ خطرناک بیماری نہیں ہے۔ بتایا جائے حکومت کی آخر کار کورونا پالیسی کیا ہے؟۔
مزید پڑھیں: کورونا وائرس جانوروں میں بھی پھیلنے کا خوف، پاکستان میں ٹیسٹ شروع
خواجہ آصف نے کہا تھا کہ گورنر سندھ ، وفاقی وزیر اور خود وزیراعظم کے بیانات واضح نہیں تھے۔ 17 مارچ کو وزیراعظم نے کہا کہ کورونا عام سا فلو ہے، آئے گا اور چلا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مارچ میں پھر کہا گیا کہ ملک لاک ڈاوَن کا متحمل نہیں ہو سکتا، لوگ بھوکے مر جائیں گے۔ اپریل میں کہا گیا کہ خوش خبری دیتا ہوں کہ جیسی امید تھی، کورونا کا ویسا پرزور نہیں تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خدارا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلا جائے۔ ٹیسٹنگ استعداد بڑھانے کی بات ہوئی تھی۔ کچھ روز پہلے لوگوں کا جو رش بازاروں میں دیکھا گیا وہ حیران کن تھا۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 4 جون کو کہا گیا کہ ہمیں پتہ تھا کہ لاک ڈاؤن کھولے گا اور کورونا بڑھے گا۔ وزیراعظم نے کہا مشکل وقت آنے والا ہے عوام احتیاط کریں۔ اسپیکر صاحب آپ ہی وزیراعظم کی باتوں کا کوئی مطلب نکال دیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیکریٹری ہیلتھ نے کہا کہ لاہور میں کورونا سے 6لاکھ 78 ہزارافراد متاثر ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پنجاب گورنمنٹ کو 7 جون کو خط لکھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف لاہور میں 3 ملین متاثرہ لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ اس وبا پر ووٹوں کی سیاست نہ کی جائے۔
