کورونا وائرس کے حملے میں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس جان لیوا وائرس کے وحشیانہ حملے متاثر ہونے والوں مین برمنگھم میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے پانچ دوست بھی شامل ہیں جن کی موت یکے بعد دیگر 17 دنوں میں واقع ہوئی ہے۔ ان پانچ دوستوں کی موت سے جہاں ہر آنکھ اشک بار ہے وہی پر ان کی موت سے جو خلا پیدا ہوئی ہے وہ آنے والے کئی سالوں میں شائد پر ہوجائے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ان جاں بحق ہونے والے افراد کی عمریں 50 سال یا اس سے زیادہ تھیں اور برمنگھم میں یہ پاکستانی کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن کورونا وائرس نے محض 17 دنوں کے وقفے میں ان کی زندگیوں کا ختمہ کردیا۔
گزشتہ ماہ کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے ان پانچ دوستوں میں 65 سالہ نذیر اعوان، 67 سالہ چودھری اسلم وسان، 80 سالہ میاں ظفر، 71 سالہ عمر افضل اور 50 سالہ جواد اقبال شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پانچوں افراد اکثر ایک دوسرے کے گھر جاتے، اکٹھے خیراتی پروگراموں میں شرکت کرتے اور کمیونٹی اور خاندانی اجتماعات میں ساتھ شریک ہوتے تھے۔
گارڈین اخبار کے مطابق ان کی دوستی کئی دہائیوں سے جاری تھی اور ان کا مشغلہ سائیکل چلانے سے لیکر لوگوں کی خدمت اور اپنا کاروباری معاملات کی لین دین تھا۔ لیکن کورونا وائرس ان کے خاندانوں پر بجلی بن کر کڑکا اور ہنستے کھلتے خاندان ماتم کدہ بن گئے۔
جاں بحق ہونے والے ان پاکستانیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نذیر اعوان کے بیٹے عامر اعوان نے کہا کہ ان پانچ دوستوں کے بغیر ہم سب کی زندگیاں بے معنی سی ہوگئی ہیں۔ وہ ہماری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ پانچوں دوست ایک ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
عامر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی نسل اس وقت برطانیہ آئی تھی جب حالات بڑے کٹھن تھے اور انہوں نے یہاں آکر ہمارے لیے بنیاد رکھی۔ ان کے بغیر ہم یہاں اس مقام پر نہیں ہوتے جہاں آج ہم ہیں۔ وہ ہمارے ہیرو اور جنگجو تھے۔
جان بحق ہونے والے ان میں سے نذیر اعوان ایک ارب پتی بزنس مین تھے جو اپنی سخاوت کی وجہ سے بھی پہچان رکھتے تھے۔ وہ برمنگھم چیمبر آف کامرس کے سابقہ ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے 1976 میں اعوان مارکیٹنگ انترنیشنل کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ نقد اور کیری ہول سیل مارکیٹ تھا جو آج بھی چلتا ہے۔
مزید پڑھیں: کورونا: بلوچستان حکومت کے پاس وینٹی لیٹرز کم پڑ گئے
نذیر اعوان میں کورونا کی علامات ظاہر ہونے پر مارچ کے آخر میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی حالت بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر ڈالا گیا لیکن 18 اپریل کو وہ انتقال کر گئے۔
ان پانچوں دوستوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے 80 سالہ میاں ظفر تھے۔ وہ اپنے کام کی وجہ سے کمیونٹی میں بے مقبول تھے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزرتے تھے اور ہر سال پان ماہ پاکستان میں گزارتے تھے۔
جان بحق ہونے والے ان افراد میں سب سے چھوٹے 50 سالہ جواد اقبال تھے جو کاروبار کرتے تھے اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ ان کی کمپنی اوورسیز ایکسپریس شہر کے سب سے قدیم منی ایکسچینج بزنس میں سے ایک تھا۔
وسان کے بیٹے ضیا کے مطابق یہ پانچوں دوست ہمیشہ ایک دوسرے کے گھر جاتے، چائے پیتے اور گھنٹوں گپ شپ لگاتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تقریبات مین ہمیشہ ساتھ بیٹھتے رہتے تھے اور جب بھی فوٹو گرافی ہوتا تو آپ یقین سے کہہ سکتے کہ یہ پانچوں دوست اس تصویر میں ہونگے۔
