اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتیاط کریں توبڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں،جنہیں بیماری لگتی ان میں سے85 لوگوں کوخاص فرق نہیں پڑے گا۔وہ اسپتال جائےبغیربھی ٹھیک ہوجائیں گے۔
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر 100میں سےایک یادو افراداس بیماری سےمرسکتےہیں،کورونا سےمتاثرہ 4سے5 فیصد افراد کو صرف اسپتالوں میں جانےکی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سےدرخواست کرتا ہوں،خدا کا واسطہ ہے غلط فہمی میں نہ پڑیں، پاکستان میں لوگ لاپرواہی کرنا شروع کر دیتےہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ملک میں کورونا وائرس کاپھیلاؤ مختلف ہے،کسی نوجوان کوبیماری لگی تو اس کےگھرمیں موجود بزرگوں کوخطرہ ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپریل کےآخرتک کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے،تین ہفتے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا،جب ہم لاک ڈاؤن کریں گےتوغریب ترین طبقےپرکیا اثرات پڑیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 5 کروڑ افرادغربت کی لکیر سےنیچےہیں، ہم نےاسکول ،کالجز،جامعات کو بند کر دیا تھا، کورونا کیسزکی تعداد بڑھی توہمار ے پاس اتنےوینٹی لیٹرزنہیں ہیں کہ انکا علاج ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ دیہات میں ایگری کلچر سیکٹر پرکوئی لاک ڈاوَن نہیں ہوگا جبکہ 14 اپریل سے کنسٹرکشن سیکٹر کو کھولا جا رہا ہے۔
