اسلام آباد: معروف جریدے فوربز نے 2018 کے لئے 30 سال سے کم عمرباصلاحیت افراد کی فہرست جاری کی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود ہمت نہ ہارنے والوں میں نو پاکستانی بھی شامل کئے گئے ہیں۔
فہرست میں300 ایسے ایشیائی شامل ہیں جو 30 برس سے کم عمر ہونے کے باوجود اپنے ملکوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی وجہ بنے۔
امریکی میگزین ’فوربز‘ کی فہرست میں پہلا نام سعدیہ بشیر کا ہے جو پاکستان میں ویڈیو گیمز انڈسٹری میں بنیادی تبدیلیاں لائیں۔ پاکستان میں سالانہ گیمز کانفرنس کرانے والی سعدیہ بشیر دوسروں کو ویڈیو گیم ڈیزائیننگ کی تربیت دینا چاہتی ہیں۔ وہ طبی و سماجی مسائل سمیت خواتین کے حقوق سے آگاہی کے لئے بھی گیمز کا استعمال کررہی ہیں۔
اسد رضا اور ابراہیم علی شاہ کو دوسرا نمبر اس لئے دیا گیا ہے کہ انہوں نے 24 سال کی عمر میں پاکستان، افغانستان، ایران اور شام سمیت ان علاقوں میں مصنوعی اعضاء کی فراہمی یقینی بنائی ہے جہاں لوگوں کے پاس سہولیات کم ہیں۔
دونوں کا دعویٰ ہے کہ فیصل آباد میں تیار کئے جانے والے مصنوعی اعضا حقیقی اعضا کی طرح چیزوں پر گرفت کرتے اور قیمتاً نہایت ارزاں ہیں۔ نیوروسٹک نامی ویب سائٹ بنانے والے ان دونوں افراد نے اسلام آباد اور لاہور میں دفاتر بھی قائم کررکھے ہیں۔
پرائس اوئے کے نام سے 2015 میں ویب سائٹ بنانے والے عدیل شفیع اور عدنان شفیع نے انٹرنیٹ پر ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جہاں صارفین کو اشیاء کی قیمتوں کا علم باآسانی ہو جاتا ہے ۔ دونوں بھائیوں نے ملک کے مختلف شہروں میں پارٹنر اسٹورز بھی بنائے ہیں جو صارفین کو مطلوبہ اشیاء مناسب قیمت میں بروقت فراہم کرتے ہیں۔
آکسفرڈ یونیورسٹی اور ویلیئم کالج سے فارغ التحصیل حمزہ فرخ ملک کے غریب اور پسماندہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ’شمس پانی‘ منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ 24 سالہ حمزہ شمسی توانائی سے چلنے والا جو منصوبہ لگاتے ہیں وہ روزانہ پانچ سو افراد کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
ایجو ایڈ نامی سافٹ ویئر کے بانی فیضان حسین نے ون ہیلتھ کے نام سے ایسے منصوبے پر کام کیا جس کا مقصد کسی بھی علاقے کے تمام لوگوں کا میڈیکل ڈیٹا اکھٹا کرنا تھا تاکہ ڈاکٹروں کو تشخیص میں مدد ملے۔ 23 سالہ فیضان نے ایسا دستانہ بھی تیار کیا جس کے استعال سے صنعتی مزدور کو کام کے دوران ایک سے زیادہ آلات رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
لاہور کے رہائشی شہیر نیازی یقین رکھتے ہیں کہ ہم برقی رو یا تیل کے ذریعے دوا سمیت دیگر چیزیں ایک سے دوسری جگہ پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان کے لئے ایک اور نوبیل انعام لانے کے خواہش مند شہیر نیازی کی تحقیق کا موضوع تیل کی سطح پر حرارت کا فرق تھا جو ایک نیا پہلو سامنے لایا۔ انہوں نے حرارت کے فرق کے عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔
راحت فتح علی خان کے ساتھ کوک اسٹوڈیو میں گا کر شہرت حاصل کرنے والی مومنہ مستحسن بھی فہرست کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ راحت فتح علی اور ان کی وڈیو کو یو ٹیوب پر نو کروڑ 70 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔ 25 سالہ مومنہ مستحسن کی پوسٹس کو اوسطاً ہر ماہ دو کروڑ افراد دیکھتے ہیں۔
