واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی معاہدے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ جلد طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں بتائی۔
افغان امن معاہدے پر امریکی صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برسوں جاری رہنے والی جنگ کو ختم کرنے جارہے ہیں، اپنے فوجیوں کو واپس گھر لائیں گے۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی کچھ برا ہوا تو اتنی قوت سے واپس افغانستان جائیں گے جو کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ 14 ماہ میں امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہو گا، ہمسایہ ممالک افغانستان میں استحکام کے لیے تعاون کریں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کا امریکہ و طالبان کے مابین معاہدے کا خیر مقدم
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ افغانستان میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم ہے۔
سعودی عرب نے بھی طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدہ افغانستان میں امن اور جنگ بندی کی جانب لے جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے دو سال سے جاری مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔
یہ بھی جانیں: طالبان امریکہ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے
امریکہ کی جانب سے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت امریکہ پہلے مرحلے میں ساڑھے چار ہزار فوجی افغانستان سے نکالے گا اور ساڑھے 8 ہزار فوجیوں کا انخلا معاہدے پر مرحلہ وار عملدرآمد سے مشروط ہے۔
افغان جیلوں سے پانچ ہزار طالبان قیدی مرحلہ وار رہا کیے جائیں گے اور طالبان افغان حکومت کےساتھ مذاکرات کے پابند ہوں گے اور دیگر دہشت گردوں سےعملی طور پر لاتعلقی اختیار کریں گے۔
امریکہ اور طالبان کےدرمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئی جس میں دونوں فریقین اور پاکستان سمیت تیس سے زائد ممالک نے شرکت کی۔
