اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو کراچی شہر کا جامع پلان بنانے کا حکم دیتے ہوئے اس مقصد کے لیے آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کردی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے شہر قائد کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم دیا اور سول انجینیرز، ماہرین اور ٹاؤن پلاننز سے مدد حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
سپریم کورٹ نے پنجاب کالونی، دہلی کالونی اور پی این ٹی میں غیر قانونی تعمیرات گرانے کا بھی حکم دے دیا۔
عدالت نے دہلی اور پنجاب کالونی سے متعلق کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سے جواب بھی طلب کر لیا۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/229870/” position =”left”]
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ ان علاقوں میں تعمیرات کیسے ہو رہی ہیں، نو نو منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں ان سب کو گرائیں۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ ہر قسم کی عمارتوں کی اجازت دے رہا ہے، 60 گز کے اوپر 9، 10 منزلہ عمارت بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
عدالت نے ڈائریکٹر لینڈ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دفتر کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
چف جسٹس نے سوال کرتے ہوئےکہا کہ لائنز ایریا دیکھا ہے، مزار قائد کے اطراف کیا ہو رہا ہے؟ خداداد کالونی کو دیکھ لیں، مزار قائد کے ماتھے کا جھومر بنا کر رکھا ہوا ہے، مزار قائد چھپ کر رہ گیا، عمارتیں بنا ڈالیں، شاہراہ قائدین کا نام کچھ اور ہی رکھ دیں، وہ قائدین کی شاہراہ نہیں ہو سکتی۔
جسٹس فیصل عرب نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ملائشیا فارمولہ سنا ہے؟ کوالالمپور کو کیسے صاف کیا، ذرا اس پر تحقیق کریں، کراچی ایک میگا پرابلم سٹی بن چکا۔ آپ لوگوں کا کوئی وژن نہیں، کیا کرنا ہے کسی کو معلوم نہیں۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پورا لائنز ایریا کچی آبادی ہے، اس کو ماڈل ایریا کیوں نہیں بناتے، کراچی کے مسائل کے حل کے لئے سٹی گورنمنٹ، سندھ گورنمنٹ اور وفاقی گورنمنٹ سب ناکام ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس وسائل ہیں، سب کر سکتے ہیں مگر نہیں کریں گے، اگر 100 ارب مل بھی جائیں تو کیا ہوگا، ایک پائی لوگوں پر نہیں لگے گی۔
