لاہور: والڈ سٹی لاہور نے نجی کارپوریٹ کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنی نے این او سی ڈنر کے نام پر لیا تھا لیکن وہاں مہندی کی تقریب منعقد کی۔
والڈ سٹی لاہور کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی چیف سیکریٹری کی جانب سے نوٹسز لیے جانے کے بعد دی گئی ہے۔
لاہور میں بڑے پیمانے پر جائیدادوں کی بے نامی ٹرانزیکشنز کا انکشاف
لاہور کی تاریخ ساز عمارت شاہی قلعے کے شیش محل یا شاہی باورچی خانے میں رسم حنا منعقد کی گئی، اس جانب عوام الناس کی توجہ ذرائع ابلاغ نے مبذول کرائی جس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر متعدد افراد نے کچھ ویڈیوز وائرل کی تھیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر کڑی نکتہ چینی اس لحاظ سے کی گئی کہ شاہی قلعہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخی عمارات میں شمارہوتا ہے اور زندہ اقوام اپنی تاریخی ثقافتی ورثے کو نہایت اہمیت دیتے ہوئے آئندہ نسلوں کے لیے انہیں محفوظ رکھتے ہیں۔
افسوسناک امر ہے کہ جب ہم نیوز نے شاہی قلعے میں ڈنر کے نام پر ہونے والی تقریب کی بابت متعلقہ حکام سے دریافت کیا تو والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے اس کی تردید کی گئی اور مؤقف اپنایا گیا کہ وہاں صرف ایک کارپوریٹ ایونٹ منعقد ہوا تھا۔
لاہور میں طوفانی بارشیں، شاہی قلعہ کا مرکزی دروازہ گر گیا
شاہی قلعے میں ہونے والی تقریب کی ویڈیو جب منظر عام پر آئی تو والڈ سٹی اتھارٹی کے ذمہ دار ذرائع نے اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا کہ ہمیں کارپوریٹ ڈنر کے نام پر دھوکہ دیا گیا کیونکہ این او سی ڈنر کا لیا تھا بعد میں رسم حنا کی تقریب منعقد کرلی گئی۔
ہم نیوز کو اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا تھا کہ شاہی باورچی خانے میں مہندی کی تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں 250 سے 300 افراد نے شرکت کی اور ایس او پیزکا بھی خیال نہیں رکھا۔
چیئرمین والڈ سٹی اتھارٹی کامران لاشاری نے اس ضمن میں کہا کہ شاہی قلعے میں ایک مہندی کا فنکشن ہوا ہے جس پر ہم نے ایکشن لیا ہے اور تقریب کرنے والوں کی سیکورٹی ضبط کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک افسر کو معطل بھی کیا گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے اسی سلسلے میں شروع میں کہا گیا کہ شاہی قلعے کے شیش محل میں شادی کی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں بتایا گیا تھا کہ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی نے قلعے کے شاہی کچن میں 9 جنوری کو کارپوریٹ ڈنرکرنے کی اجازت طلب کی تھی۔
والڈ سٹی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کو پانچ لاکھ روپے کے عوض قلعے کے رائل کچن میں پرائیویٹ ڈنر کی اجازت دی گئی تھی۔ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ کمپنی سے سیکیورٹی کی مد میں ایک لاکھ روپے قابل واپسی وصول کئے گئے تھے۔
فاطمہ فرٹیلائزر کو ایس او پی کے مطابق ممنوعہ چیزوں کی باقاعدہ فہرست دی گئی تھی جس کے تحت آتش بازی، تیل کے لیمپ کا استعمال اور ہوائی فائرنگ ممنوعہ ہے، شاہی باورچی خانے کے احاطے میں کسی بھی قسم کی کیل ٹھونکنے پہ پابندی ہے، ہتھیار لے جانے کی اجازت نہیں ہے اور شادی کی تقریب پہ پابندی ہے۔
شاہی قلعہ لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب ہوگا
ہم نیوز کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ میڈیا پر چلنے والی ویڈیو شیش محل میں شادی کی نہیں ہے بلکہ شاہی کچن میں ہونے والے ڈنر کے بعد کی ہے۔
ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چلنے والی ویڈیو پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سخت نوٹس لیا اور پورے واقعہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ہم نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح طور پر ہدایات دیں کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ شاہی قلعہ جیسی تاریخی عمارت میں شادی کی تقریب کا انعقاد سنگین غفلت اورکوتاہی ہے۔
وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اپنے احکامات میں واضح احکامات دیے کہ تاریخ ساز عمارت میں شادی کا انعقاد کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو، ہر قیمت پر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔
ہم نیوز کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان نے بھی سارے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور ڈویژن سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
شاہی قلعے میں پکچر وال کی بحالی کا کام جاری
ترجمان چیف سیکریٹری پنجاب نبیلہ غضنفرنے دعویٰ کیا ہے کہ جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ہم نیوز کے مطابق شاہی قلعے میں مہندی کی تقریب کے انعقاد پر کارروائی کرتے ہوئے انچارج بلال طاہر کو معطل کردیا گیا ہے۔
