اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی ہم نیوز نے پتہ لگالی ہے۔
ذرائع کے مطابق لیگی وفد کے لندن جانے پر پارلیمانی پارٹی کے بیشتر ارکان نے اعتراض کیا جبکہ بیرون ملک اجلاسوں پر بھی سخت تنقید کی گئی۔
لیگی ارکان کی رائے ہے کہ وفد کے باہر جانے کی روایت اچھی نہیں ہے اور اس پر پاکستان میں بہت تنقید ہوگی۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/218059/” position =”left”]
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے لندن کے بجائے پاکستان میں ہونے چاہئیں۔
اس موقع پر رہنماؤں نے ارکان کو تسلی دی کہ پارٹی صدر شہباز شریف سابق وزیراعظم نواز شریف کے ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آجائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ ارکان نے عطا تارڑ کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر قائم خصوصی کمیٹی میں پیش ہونے پر بھی اعتراض کیا۔
لیگی اراکین کا اعتراض تھا کہ پارلیمنٹرینز موجود ہیں تو غیر پارلیمنٹیرین کو نمائندہ بنانے کا کیا جواز تھا؟ ان کو اتنا اہم بنادیا گیا ہماری کوئی حیثیت نہیں؟
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/218010/” position =”left”]
اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے تک اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ اراکین کو چیف الیکشن کمشنر و اراکین کی تقرری اور آرمی چیف کی توسیع سے متعلق پارٹی فیصلوں سے آگاہ کیا گیا۔
