لاہور: چونیاں میں معصوم بچوں کےساتھ زیادتی اور قتل کے ملزم سہیل شہزاد نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے استدعا کی ہے کہ ’مجھے نہ مارا جائے‘۔
چونیاں میں چار معصوم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے ملزم کو آج چہرہ ڈھانپ کر سخت سیکیورٹی میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج عبدالقیوم خان نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی۔
مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے حکام سے استفسار کیا کہ ملزم کا چہرہ ڈھانپنے کیا ضرورت ہے؟ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کا چہرہ سیکیورٹی خدشات کے باعث چھپایا گیا ہے۔
جج نے ملزم سے بھی سوال کیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے؟ اس پر ملزم نے جواب دیا کہ’مجھے مارا نہ جائے‘۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سہیل شہزاد نے فیضان عرف مٹھو کو اغواء کر کے بد فعلی کے بعد قتل کیا۔
دوران تفتیش ایک ہزار چھ سو اٹھاسی افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے اور ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے مقتول سے میچ ہوا۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر کی جانب سے ملزم کے تیس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس کو عدالت نے منظور کر لیا۔
