کوئٹہ : بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال جنوری سے اب تک 200 سے زائد لاپتہ افراد اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔
ہم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ سینکڑوں میں ہے اور گھر واپس لوٹنے والے افراد کے اعداد و وشمار موجود ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے میں ہماری حکومت کے قیام کے بعد لاپتہ افراد کی بازیابی اولین ترجیح ہے، مزید افراد بھی جلد واپس آ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے 250 لاپتہ افراد کی فہرست فراہم کی تھی جبکہ جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن بھی تقریباً 40 کیسز کی سماعت کر رہا ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ انہوں نے صوبائی حکومت کو 365 لاپتہ افراد کی فہرست دی تھی جن میں سے اب تک 103 افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہیں۔
واضح رہے کہ وی بی ایم پی نے بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے بعد 2009 میں بھوک ہڑتالی اور احتجاجی کیمپ لگایا تھا تاکہ لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
مزید پڑھیں : ’حکومت اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے درمیان کوئی اختلاف نہیں‘
اس سے قبل سردار اختر جان مینگل نے کہا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں لاٹھی سے سمجھانے کے نتائج ماضی کی طرح برے نکلیں گے۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر وزیراعظم کی مشاورت کے بعد پیش رفت ہونے کی امید ظاہر کی تھی۔
