برمنگھم: نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن مکلم نے 1992 اور 2019 کے عالمی کپ کے دوران پاکستانی ٹیم کے سفر میں مماثلت کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید دس سال بعد ہمیں ایک اور وزیراعظم مل جائے۔
وہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کا حوالہ دے رہے تھے جنہوں نے 1992 میں گرین شرٹس کو پہلی مرتبہ کرکٹ کا عالمی چیمپئن بنایا۔
1992 اور 2019 کے ورلڈ کپ کے سفر میں مماثلت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں تاہم کچھ چیزیں ناقابل یقین حد تک ایک جیسی ہیں۔
1992 میں بھی پاکستان اپنا پہلا میچ ہارا، دوسرا جیتا، تیسرا بارش کی نذر ہوگیا، چوتھا اور پانچواں ہارا جبکہ چھٹا اور ساتویں میچ میں گرین شرٹس کامیاب رہے۔
1992 میں بھی ٹورنامنٹ کی ناقابل شکست رہنے والے نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی۔

میچ کے بعد اپنی گفتگو میں کیوی اسٹار نے ہنستے ہوئے کہا ’یہ مماثلت ناقابل یقین ہے، یہاں تک کہ 1992 اور 2019 دونوں میں ایک ہی موقع پر میچز بارش کی وجہ سے منسوخ ہوئے، یہ کیا ہورہا ہے؟؟؟ اگر ایسا چلتا رہا تو شاید دس سال میں ہمیں ایک اور وزیراعظم مل جائے۔۔۔‘
پاکستان کی کیویز کے خلاف یادگار فتح پر تبصرہ کرتے ہوئے مکلم نے کہا کہ اش سودھی کو اس میچ میں موقع دینا چاہیے تھا اور نیوزی لینڈ سے غلطی سرزد ہوگئی تاہم ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں لیکن ایسا بار بار نہیں ہونا چاہیے۔
سابق نیوزی لینڈ کپتان نے کہا کہ کبھی کبھار اس طرح کی ہار سے ٹیم کے مسائل دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔
92 کی جیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ ہم ٹورنامنٹ میں ایک ایسے مقام پر آکھڑے ہوئے تھے جہاں سے ہمیں تمام میچز جیتنے تھے۔
’ہم نے جب نیوزی لینڈ کو کرائسٹ چرچ میں شکست دی تو وہ اس میچ کو جیتنے کے لیے فیورٹ تھے۔‘
رمیز راجہ نے پاکستانی ٹیم کو مشورہ دیا کہ وہ ان چیزوں (1992 اور 2019 میں مماثلت) پر دھیان نہ دیں اور اپنی توجہ میچز جیتنے پر مرکوز رکھیں۔
سابق پاکستانی کپتان نے کہا کہ پاکستان نے میچ میں بہترین گیند بازی کی تھی اور ایک موقع پر شاہین شاہ آفریدی کو کھیلنا ناممکن نظر آرہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اکثر مخالف ٹیمیں پاکستان کی فیلڈنگ کو دیکھتی ہیں اور اندازہ لگاتی ہیں کہ آج یہ کیسا کھیل رہے ہیں تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف گرین شرٹس نے شاندار فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا۔
