اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی ’مانیٹرنگ‘ کے لیے پارٹی میں اینٹی کرپشن ونگ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
ہم نیوز کو پی ٹی آئی کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے لیے پارٹی میں اینٹی کرپشن ونگ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو یہ چیک کرے گا کہ اراکین اسمبلی نے اپنے حلقے میں کتنے ترقیاتی کام کرائے؟ اورملنے والے فنڈز کہاں خرچ کیے؟
پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کردی گئیں
پاکستان تحریک انصاف کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پارٹی میں قائم کیا جانے والا اینٹی کرپشن ونگ کن افراد پر مشتمل ہوگا؟ اس کا فیصلہ براہ راست خود وزیراعظم کریں گے۔
ہم نیوز کے مطابق اینٹی کرپشن ونگ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو ملنے والے فنڈز کے استعمال پر نظر رکھنے کے علاوہ یہ رپورٹ بھی مرتب کرے گا کہ فنڈز ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے گئے؟ یا انہیں کسی دوسری مد میں خرچ کیا گیا۔
’پی ٹی آئی کے کچھ لوگ عمران خان کو ہٹانا چاہتے ہیں‘
ذرائع کے مطابق قائم کیے جانے والا اینٹی کرپشن ونگ اپنی جو رپورٹ مرتب کرے گا وہ براہ راست وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور یا ان کے نامزد کردہ کسی ذمہ دار شخص کے حوالے کی جائے گی۔
پی ٹی آئی کے ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بدعنوانی میں ملوث پائے جانے والے اور ناقص کارکردگی کے حامل اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف مربوط ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
ہم نیوز کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ بنیادی طور پر اینٹی کرپشن ونگ بنانے کا فیصلہ ترقیاتی فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذرائع نے ہم نیوز کے استفسار پر یہ نہیں بتایا کہ کیا انیٹی کرپشن ونگ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکین قومی و صوبائی اسمبلی کی بھی مانیٹرنگ کرے گا؟ اور یہ کہ کیا مانیٹرنگ ٹیم کی دسترس سے ایوان بالا (سینیٹ) کے اراکین باہرہوں گے اور یا پھر ان پر بھی نگاہ رکھی جائے گی؟
