ٹیکس ایمنسٹی اسکیم2019 فی الحال کسی قسم کا کوئی نتیجہ نہیں دے سکی ہے۔ عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے حکومت کو پریشانی لاحق ہوگئی ہے کیونکہ اس اسکیم کے تحت ابھی تک ایک روپے کا ٹیکس بھی جمع نہیں ہو سکا۔
ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت کسی بھی ادارے کے پاس کوئی اثاثہ ڈکلیئر نہیں ہوا۔
ایف بی آر حکام کو امید ہے کہ 20دن باقی ہیں ، عوام اس ایمنسٹی اسکیم سے ضرور فائدہ اٹھائینگے۔
ذرائع کے مطابق کسی اثاثہ جات کے کلیم بھی تاحال داخل نہیں ہوسکے۔ حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے 200ارب روپے تک ٹیکس حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا تھا ۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ ایف بی آر نے اثاثہ جات ڈکلیئریشن اسکیم کی ناکامی دیکھ کر وزیراعظم سے قوم کو اپیل کروائی ہے۔
واضح رہے آج صبح 9بجے وزیر اعظم عمران خان نےقوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ لوگوں کے پاس 30 جون تک وقت ہے اپنے اثاثے ظاہر کر دیں اس کے بعد کسی کو وقت نہیں ملے گا جبکہ گزشتہ 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
وزیر اعظم نے قوم کو اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ ٹیکس ادائیگی کے بغیر قوم ترقی نہیں کر سکتی اور پاکستانی قوم سب سے کم ٹیکس اور سب سے زیادہ خیرات دیتی ہے۔ تمام افراد 30 جون تک اپنے بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی ظاہر کر دیں پھر اس کے بعد ان کو موقع نہیں ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے:وزیراعظم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی اپیل
30 جون تک اپنے اثاثے ظاہر کریں، پھر موقع نہیں ملے گا، عمران خان
عمران خان نے کہا کہ ہماری ایجنسیوں کے پاس معلومات ہیں کہ کس کے بے نامی اکاؤنٹ اور بے نامی جائیداد موجود ہیں جبکہ ہمارے دیگر ممالک سے معاہدے ہوئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کی معلومات آ رہی ہیں۔ اس وقت موجودہ حکومت کے پاس وہ معلومات ہیں جو سابقہ حکومتوں کے پاس نہیں تھیں۔
