اسلامی تعاون تنظیم کا چودہواں سربراہ اجلاس آج مکہ مکرمہ میں ہو رہا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں ۔
اسلامی تعاون تنظیم کے قیام کے پچاس سال پورے ہونے پر پہلی بار اجلاس مکہ مکرمہ میں منعقد کیا جارہاہے۔
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس کا موضوع ’’مکہ سربراہ اجلاس اور مستقبل کے لئے اتحاد‘‘ ہے۔
وزیراعظم عمران خان اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اوروہ اپنے خطاب میں امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات اٹھائیں گے ۔
وزیراعظم عمران خان کے روانگی سے ایک دن قبل ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں اتحاد امت اور درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ وزیر اعظم امت مسلمہ کے مشترکہ مقاصد اور مسائل بشمول کشمیر اور فلسطین پر بھی بات کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اسلامی ممالک کے درمیان تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیں گے۔
ترجمان کے مطابق 2019 او آئی سی کے قیام کا 50 واں سال ہے۔او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دنیا کو دوسرا بڑا فورم ہے۔بانی رکن ہونے کی وجہ سے پاکستان او آئی سی کا متحرک ترین رکن بھی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق او آئی سی نے اپنے اعلامیوں اور قراردادوں کے ذریعے ّکشمیر پر پاکستان کے موقف کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔
اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی )کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس گزشتہ سے پیوستہ شب ہوا تھا جس میں باہمی مشاورت سے اسلامی سربراہی کانفرنس کے14ویں اجلاس کے مسودہ “مکہ اعلامیہ” کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد نے کہا تھا کہ کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی نہ صرف خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ اس عفریت سے پوری دنیا بھی خطرات کی زد میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے:اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس
انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کی وجہ سے او آئی سی کے رکن ممالک کا معاشرہ اور معیشت بھی خطرات کی زد میں ہے ۔ دہشتگردی اور
انتہاپسندی کے ناسور سے نبرد آزما ہونا تمام ممبر ممالک کی اجتماعی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔
