بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقہ پشتون آباد کی ایک مسجد میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں امام مسجد سمیت 3 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہو گئے۔
کوئٹہ پولیس کے مطابق دھماکہ عبدالولی چوک کے قریب واقع رحمانیہ مسجد کے احاطے میں ہوا جس کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو سول اسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا۔ دھماکے کے بعد طبی امداد کے قریبی مراکز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
بلوچستان کے وزیر صحت نصیب اللہ مری نے ابتدائی بیان میں دھماکے سے دو افراد جاں بحق 15 زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی لیکن بعد ازاں مزید ایک شخص دم توڑ گیا اور زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
کوئٹہ پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ کے لیے رحمانیہ مسجد میں آ رہی تھی جہاں 2 بجے نماز ادا کی جانی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق جب دھماکہ ہوا تو خطبہ جمعہ شروع ہو چکا تھا اور مسجد کے اندر 60، 70 افراد موجود تھے۔
سانحہ پیش آنے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر واقعے کی تفتیش شروع کردی اور پولیس نے دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے ثبوت و شواہد اکٹھے کیے۔
ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے آئی ای ڈی کے ذریعے یہ دھماکہ کیا ہے۔
پولیس کے سینئر اہلکار کا کہنا تھا کہ جمعے کےموقع پر کوئٹہ میں سیکیورٹی الرٹ تھی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی کےاضافی اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں پر بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظاما ت تھے۔
شہربھر میں کوئیک رسپانس فورس کی تعیناتی کے علاوہ ایف سی کی پٹرولنگ بھی جاری رہی، نماز جمعہ کے دوران ایس ایچ اوزکو گشت جبکہ ایس پیز کو سرکل میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ترجمان وزیر اعلی بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اس واقعے میں جو بھی ملوث ہوا حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے گی ۔
ہم نیوز کے بیورو چیف ایوب ترین کے مطابق اس نوعیت کے خطرے کے لیے پہلے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا اس لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
وزیراعظم عمران خان ، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان ، وزیر داخلہ بلوچستان میر خالد لانگو اور وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے مسجد میں ہونے والے دھماکے مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو، اپوزیشن لیڈ شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
یاد رہے بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں 13مئی کو پولیس وین کے قریب دھماکہ ہوا جس سے 5 پولیس اہلکار شہید اور نو افراد زخمی ہوگئے تھے۔
اسی طرح رواں سال 12اپریل کو بھی بلوچستان کے علاقہ ہزار گنجی میں خودکش دھماکے میں 20 افراد جاں بحق اور48 زخمی ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے:کوئٹہ میں دھماکہ، چار پولیس اہلکارشہید نو افراد زخمی
کوئٹہ: سبزی منڈی میں خود کش دھماکہ، 20 افراد جاں بحق 48 زخمی
