اسلام آباد: چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ بھارت پورے خطے کا ایس ایچ او بننا چاہتا ہے۔ آر ایس ایس چاہتی ہے کہ بھارت میں صرف ہندو رہیں باقی سکھر مسلمان یا کوئی کسی اور مذہب کے ماننے والے نہ ہوں۔
ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت میں مودی کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا کیونکہ آر ایس ایس کا خوف بھارتیوں پر طاری ہے۔ بھارت پاکستان پر بڑا حملہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس پوزیشن میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو توڑنے والا شخص بھی مودی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی پھیلائی۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیاں دیں لیکن ہمیں آج بھی دنیا کو بتانا پڑ رہا ہے۔ بھارت افغان انٹیلی جنس سے مل کر پاکستان میں دہشت گردی کراتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں صدارتی نظام کے لئے ماحول بنایا جا رہا، رحمان ملک
چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا کہ امریکہ کے افغانستان میں مقاصد ہیں لیکن امریکہ کا بنیادی مقصد ایشیا میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے۔ اگر واشنگٹن اور طالبان کے مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو کابل میں مضبوط افغان طالبان کی حکومت بن سکتی ہے۔
رحمان ملک نے کہا کہ اشرف غنی کی حکومت بہت کمزور ہوچکی ہے۔
ملک میں کرپشن ختم کرنے کا باضابطہ نظام موجود نہیں،رحمان ملک
انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن ختم کرنے کا کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں، کسی بھی اچھی گورننس کے لیے تین مرحلہ وار احتساب کا نظام ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا قانون بنائے جس میں موجودہ حکومت کا بھی احتساب ہو۔ رحمان ملک نے کہا کہ آئندہ وقتوں میں موجودہ حکومت کے وزرا اور وزیر اعظم کو آپ اسی احتساب کے کہٹرے میں دیکھیں گے۔
چئیرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کے محترمہ نے مشرف سے این آو او لیا تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ بلاول بھٹو سیاست کا نیا ویژن لے کر آئیں گے۔
