کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں سی این جی پمپ پر دھماکے سے دو افراد جاں بحق جبکہ چار زخمی ہوگئے۔
واقعہ نارتھ کراچی کے علاقے پاور ہاؤس چورنگی کے قریب پیش آیا۔ واقعے میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کے لئے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گیس لیکج سے دھماکہ، بچہ سمیت تین افراد جاں بحق
اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ڈی ایس الطاف حسین نے کہا کہ جائے وقوعہ سے سلینڈر یا کمپریسر پھٹنے کے کوئی شواہد نہیں ملے، ممکنہ طورپرروم میں عقب والے کمرے سے گیس بھری اور کسی نے سگریٹ جلائی ہو گی جس سے دھماکہ ہوا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ کمپریسر اور سلینڈر کا کوئی ٹکڑا بھی نہیں ملا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نارتھ کراچی میں سی این جی اسٹیشن میں دھماکے کا نوٹس لے لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ نے بتایا کہ رپورٹ میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ان سی این جی اسٹیشن کے متعلق وفاقی ادارہ انسپیکشن نہیں کرتا، اگر انسپیکشن ہوئی تھی تو آخر کب ہوئی؟
بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ابتدائی رپورٹ میں سلینڈر دھماکے اور یا تخریب کاری کا شبہ مسترد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دھماکہ مینیجر روم کے ساتھ والےلاکر روم میں گیس بھر جانے اور شارٹ سرکٹ سے ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کمروں کا مرکزی دروازہ ایک ہی ہے، دھماکے سے مینیجر روم کے شیشے ٹوٹ گئے اوردیوار میں دراڑ پڑ گئی اور ساتھ ہی آگ بھڑک اٹھی جس سے جھلس کر دو افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔
