اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما رمیش کمار نے کہا کہ نیب کی جانب سے بلاتفریق احتساب کا عمل جاری ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ’نیوز لائن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جب پارلیمنٹ میں آ کر نیب کے حوالے سے بات کی اس کے جواب میں ڈی جی نیب نے بھی اپنا مؤقف دیا تاہم میری یہ رائے ہے کہ دوران تحقیق کسی بھی کیس سے متعلق بات نہیں ہونی چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے علیم خان کی گرفتاری کو دوسرے عوامل سے جوڑا جا رہا ہے جو کہ غلط ہے۔
نیب چھوٹی قربانی دے کر بڑے لیڈر کو پکڑنے کی تیاری کر رہی ہے، رہنما مسلم لیگ ن
رہنما مسلم لیگ ن شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ نیب کی جانب سے محض یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ احتساب سب کے ساتھ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب میں بہت سے قوانین کو درست کرنے کی ضرورت ہے، غلطی ہے کہ ہماری حکومت میں نیب قوانین میں اصلاحات نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نیب چھوٹی قربانی دے کر اپوزیشن کے کسی بڑے رہنما کو پکڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔
نیب کیسز میں تاخیر کے ذمہ دار سابق چیئرمین نیب ہیں، راجہ عامر عباس
سابق پراسیکیوٹر نیب راجہ عامر عباس نے کہا ہے کہ جو کیس لمبے عرصے نہیں چلے ان کے ذمہ دار سابق چیئرمین نیب قمرالزمان چوہدری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چاہیں ملک ریاض ہوں یا آصف علی زرداری یا بیوروکریٹ، تمام کرپٹ عناصر کے خلاف مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔
نیب کا قانون غلط استعمال ہوتا ہے، رہنما پیپلز پارٹی
رہنما پیپلز پارٹی حیدر زمان قریشی نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے علیم خان کی گرفتاری سے متعلق حتمی رائے نہیں دے سکتے، اگر وہ اپنی جائیداد سے متعلق نیب کو مطمئن نہیں کر سکے تو گرفتاری جائز ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کا قانون غلط استعمال ہوتا ہے اس میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے، احتساب سب کے لئے برابری پر ہونا چاہئے، لگتا ہے علیم خان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے پنجاب کے دورے کے بعد علیم خان کی گرفتاری بہت سے سوال جنم دے رہی ہے، لگتا ہے عثمان بزدار کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے ان کی گرفتاری کی گئی ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ اگر علیم خان پر 11 سال سے کیسز تھے تو نیب اتنےعرصہ کیا کر رہی تھی، سپریم کورٹ نے بھی نیب کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے پاس قبرستان ہے کیسز کا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف بھی انکوائری کی جارہی ہے انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔
