اسلام آباد: سینئر صحافی ناصر ملک کا کہنا ہے کہ میڈیا میں پھیلی سنسنی خیزی کے حل کے لیے محتسب کا ادارہ ضروری ہے، اس وقت یہ ادارہ صرف دو اخبارات کے پاس کام کر رہا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ’ایجنڈا پاکستان‘ کے میزبان عامر ضیاء سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں پرنٹ میڈیا کی اقدار کے مطابق کام کیا کرتا تھا تو چینل کے مالک کا فون آ جاتا کہ آپ فلاں چیز ٹی وی پر کیوں نہیں چلا رہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے پرنٹ میڈیا پر ان بچوں کے نام لکھے جاتے تھے جو زیادتی کا شکار ہوتے تھے، پھر ہائی کورٹ کا حکم آیا تو نام لکھنا بند کر دیا گیا، اب الیکٹرانک میڈیا پر ایک بار پھر پرانا چلن شروع ہو گیا ہے۔
ناصر ملک نے کہا کہ مغربی دنیا میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کسی بچے کی شناخت ظاہر کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ٹی وی چینلز 24 گھنٹے خبروں پر زندہ نہیں رہتے، ان کی نیوز رپورٹس بہت اہم ہوتی ہیں، ہمارے ہاں دستاویزی فلموں کا رواج نہیں ہے کیونکہ ان پر خرچہ بہت ہوتا ہے۔
ناصر ملک نے کہا کہ ہمارے چینلز کا مالک تحقیقاتی رپورٹس پر خرچ نہیں کرنا چاہتا۔ وہ لائیو رپورٹنگ کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اس پر سب سے کم خرچہ ہوتا ہے۔
انہوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ان کی پیمرا کے وکیل سے بات ہوئی تو اس وکیل نے شکوہ کیا کہ ہم چینلز پر جرمانے تو بہت کرتے ہیں لیکن انہیں ادا کوئی نہیں کرتا، چینل عدالت میں جا کر حکم امتناعی حاصل کر لیتے ہیں۔
مجاہد بریلوی کا نکتہ نظر
سینئر صحافی مجاہد بریلوی کا کہنا ہے کہ جن صحافیوں نے پرنٹ میڈیا میں کام کیا ہے وہ ایڈیٹوریل پالیسی سے آگے نہیں جاتے، بہت سے اینکرز ایسے ہیں جو ایجنڈے کے تحت میڈیا میں آتے ہیں، یہی لوگ صحافتی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی جب لندن کے ہسپتال میں داخل تھی تو وہ کیمرہ لے کر ملالہ کا انٹرویو لینے چلے گئے لیکن ہسپتال کی انتظامیہ نے فوری ردعمل کا اظہار کیا اور ان سے کیمرہ لے لیا، اگر بیچ بچاؤ نہ ہوتا تومقدمہ درج ہو سکتا تھا۔
مجاہد بریلوی نے کہا کہ کہ مغربی دنیا میں پولیس کی پیلی پٹی کوئی نہیں عبور کر سکتا جبکہ یہاں تو کیمرے لوگوں کے بیڈ رومز میں پہنچ جاتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا کے بارے میں ان کا شکوہ تھا کہ یہاں کوئی سانحہ ہو جائے تو چند گھنٹوں بعد اسکرین پر رقص و سرود کی محفلیں دکھائی جاتی ہیں، ہمارے ہاں پرائم ٹائم میں بھی کرائم شوز چل رہے ہوتے ہیں۔
عامر جہانگیر کی رائے
سینئر صحافی عامر جہانگیر کا کہنا تھا کہ چینل مالکان میڈیا میں سنسنی خیزی کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت توجہ کی معیشت میں رہ رہے ہیں جہاں سب سے پہلے ناظرین کی توجہ حاصل کرنا ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ ایڈیٹوریل احتساب کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ کوئی بھی عام آدمی کے تحفظ کا نہیں سوچ رہا۔
عامر جہانگیر نے کہا کہ ہمارے ہاں کامیاب چینل کی کامیابی کا معیار ریٹنگ ہے جس کی وجہ سے سنسنی خیزی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوتا۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان میں ریگولیٹر وزارت اطلاعات کے ماتحت ہے حالانکہ اسے خودمختار ہونا چاہیئے اور ساتھ ساتھ اس کا احتساب بھی کرنا چاہیئے۔
