سری نگر: ظالم بھارتی فوج نے شہدا کی نماز جنازہ کیلئے آئے لوگوں پر فائرنگ کردی جس سے خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
گزشتہ روز بھارتی فوج نے نام نہاد آپریشن کے نام پر دو کشمیریوں کو شہید کردیا تھا جن کی شناخت زینت السلام اور ڈاکٹر عثمان کے نام سے ہوئی۔
اتوار کی صبح بھارتی فوج نے شہدا کی نماز جنازہ میں شریک عوام پر فائرنگ کی ہے جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ جنازہ ضلع شوپیاں کے علاقے سوگن میں ادا کیا جارہا تھا جب کہ قابض فوج نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں تاکہ لوگ جنازے میں شرکت نہ کرسکیں۔
نہتے کشمیریوں پر قابض انتظامیہ کی جانب سے پیلٹس، آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ بھی کی گئی۔
مقبوضہ کشمیر میں ہفتہ کی شب بھارتی فوج نے نام نہاد آپریشن کے دوران دو نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔ قابض فوج اور پولیس نے رات سے کشمیر کے ضلع کلگام کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر رکھا تھا جب کہ اننت ناگ اور کلگام میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی تھی۔
چند روز قبل بھی بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران سات نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ضلع پلواما، باندی پورا، سوپور اور بارہ مولا میں بھی سرچ آپریشن کیا گیا تھا۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/122266/” position =”left”]
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کے خلاف پاکستان سمیت عالمی طاقتوں نے بھی آواز اٹھائی ہے، برطانوی پارلیمنٹ باڈی نے کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر میں جاری بربریت کے پیچھے بھارتی ریاست ملوث ہے۔
برطانوی سیاست دانوں نے کشمیر کی صورتحال پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔
برطانوی رہنماؤں کی رپورٹ میں بھارت کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوج کی تعیناتی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
