چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 1713 شکایات کی جانچ پڑتال کی گئی جس کے بعد پانچ سو تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ چارسوچالیس افراد کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کیے گئے جبکہ نوسو ارب کے 1211 بدعنوانی کے ریفرنسزاحتساب عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔
چیئرمین نیب نے بتایا کہ آٹھ سو 77 انکوائریوں سمیت 227 انوسٹیگیشنز کی منظوری دی اور اسلام آباد میں اسٹیٹ آف دی آرٹ فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے۔
وائٹ کالرکرائم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر مقدمات کو انجام تک پہنچانے کے لیے دس ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے، ایسے مقدمات کو انجام پہنچانے کے لیے کسی بھی ادارے نے اتنا وقت مختص نہیں کیا۔
ملک میں جاری احتساب کے عمل کے حوالے سے جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ ہم کرپشن فری پاکستان کےلیے بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ’’احتساب سب کے لیے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں اوراس حوالے سے احتساب کے عمل کو مکمل شفافیت سے سر انجام دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
