لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے سیکٹر کو نظر انداز کیے جانے پر مایوسی ہوئی ہے۔ دیانتدار قیادت ہی کسی ملک کو اوپر لے کر جاتی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے لاہور کے انڈیس اسپتال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ باعزت قومیں اور معاشرے کس طرح تشکیل پاتے ہیں۔ ہماری زندگی کا اصل اور حقیقی مقصد مخلوق خدا کی خدمت ہونا چاہیے جب کہ عالمی برادری میں باوقار قوم اور معاشرہ بننے کے لیے اخلاص کی ضرورت ہے۔
تعلیم سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ اور قوم ترقی حاصل نہیں کر سکتی جب کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے اور شرح خواندگی انتہائی کم ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اسکولز ہی موجود نہیں ہیں اور جہاں اسکولز موجود ہیں وہاں ٹوائلٹ اور پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے وڈیروں کے مال مویشی رکھنے کے کام آتے ہیں جب کہ یہی تعلیم معاشرے میں تبدیلی لاتی ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کسی ملک اور قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی لیڈر شپ اچھی جو جس پر لوگوں کا اعتماد ہو۔ ایماندار، اعتماد اور انصاف کے بغیر کوئی قوم اپنا مقام پیدا نہیں کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو حقوق دلانے کے لیے صرف ایک ہی ادارہ ہے اور وہ ہے عدالت۔ اگر عدالت لوگوں کو حقوق نہیں دلا سکتی تو معاشرہ بہتر نہیں ہوسکتا اور جب کسی شہری کو اس کے بنیادی حقوق نہیں ملتے تو معاشرے میں مایوسی اور اضطراب پھیلتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کو کسی پلمبر، بیرے یا کسی غریب نے نقصان نہیں پہنچایا ہے بلکہ ہم بڑے لوگ ذمہ دار ہیں اور اگر آج بھی ہم نے کام نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اچھی روایات دے کر جائیں۔
