اسلام آباد:وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ آج کا نہیں ہے اس پر عدالتوں نے کمیشن بھی بنا رکھا ہے، کچھ لوگ اس مسئلے کو لے کر الیکشن بھی جیتے ہیں، بلوچستان کا صرف لاپتہ افراد کا مسئلہ نہیں پانی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل بھی ہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نمبر گیم کی سیاست چل رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کی سب سے اچھی صلاحیت یہ ہے وہ بات سنتے ہیں، لیڈر شپ کے نہ سننے سے محرومی پیدا ہوتی ہے، بلوچستان کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو اس کی محرومیوں کا ذکر آتا ہے، اس صوبے میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں، یہاں بہت سارے لوگ اپنی خاندانی نشستیں ہار گئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی ایک منظم پارٹی ہے، بلوچستان کے منتخب ارکان کا عوام دوست ہونا بہت ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ صوبے کی سیاست بدل چکی ہے، جمہوریت کی بہتری کے لئے ہمیں عوامی مسائل پر توجہ دینا ہو گی اور سیاست دانوں کو مسائل کے حل کے روڈ میپ دینا ہو گا، ہم بلوچستان کی سیاست کو صوبے کی ترقی کی جانب لے کر جانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بلوچستان کو سیاسی ڈکٹیشن دی جاتی تھی، اس صوبے میں تین قسم کی پارٹیاں موجود ہیں، قوم پرست پارٹیوں نے کبھی صوبے کے مسائل کی بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا افغان جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے، افغان بارڈر پر سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنائی گئی ہے، بارڈر مینجمنٹ کر کے عسکری شدت پسندی میں قابو پایا گیا ہے، بیرونی قوتیں نئے طریقہ کار اپنا کر پاکستان میں کارروائی کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے اندر دس سال کی جنگ لڑی گئی ہے، جس سے بہت سے لوگ مارے گئے ہیں، ہمیں لاپتہ افراد کا تعین کرنا ہے کہ آیا وہ واقعی گمشدہ ہیں یا بیرون ملک رہ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان کے سول اسپتال میں سہولیات کے فقدان کے باعث اموات ہورہی ہیں، اس صوبے میں پانی کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے، یہاں پانی 1400 فٹ زیر زمین جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ صوبے میں سب سے بڑا فقدان گورننس کا ہے، ہم نے کوشش کی ہے کہ اس کو بہتر بنائیں، گورننس ٹھیک ہوئے بنا انفراسٹرکچر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد سے ہم نے چار ماہ میں پانچ کابینہ کےاجلاس کئے ہیں، 60 دنوں میں قانون سازی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں ایمرجنسی لگائی گئی ہے جبکہ ویمن رائٹ بل پاس کئے ہیں، صوبے میں اسکولوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے، ہم جلد 80 ہزار نوکریاں دیں گے۔
