اسلام آباد: حکومت کا چیئرمین بپلک اکاؤنٹ کمیٹی (پی اے سی) اپوزیشن سے لینے کا عندیہ دے دیا تاہم شہباز شریف اور خواجہ آصف کا نام قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
حکومت نے اس معاملے پر اپوزیشن سے فوری مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ہی چئیرمین پی اے سی بنانے کا اصرار کیا جارہا ہے تاہم حکومت اس معاملے میں لچک دیکھاتی نظر نہیں آتی۔
اس سے قبل اکتوبر میں حکومت کی جانب سے پی اے سی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فخر امام کا نام تجویز کیا گیا تھا جسے اپوزیشن نے مسترد کردیا تھا۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/97692/” position =”left”]
ابھی تک حکومت اور اپوزیشن پی اے سی کے چئیرمین کے نام پر متفق نہیں ہوسکی ہے۔
پنجاب میں بھی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں پر حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈ لاک برقرار
دوسری جانب پنجاب میں بھی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں پر حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
اس بارے میں کیے گئے مذاکرات کے کئی دور کامیاب نہیں ہوسکے اور اب تک کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ادھر وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ احتساب زدہ ن لیگ کو چیئرمین شپ نہیں دی جا سکتی۔
اپوزیشن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نمبر ون کی چیرمین شپ حمزہ شہباز کو دینے کے حق میں ہے لیکن پی ٹی آئی یہ عہدہ کسی صورت انہیں دینے پر رضا مند نہیں۔
رولز آف پروسیجر کے تحت وزیراعلی منتخب ہونےکے90 روز میں اسٹینڈنگ کمیٹیاں قائم کرنا لازمی ہے۔ یہ کمیٹیاں اپوزیشن کے ساتھ معاہدے یا ایوان میں الیکشن کے ذریعے بنائی جاتی ہیں لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاذ آرائی کےباعث تا حال کمیٹیاں بھی نہیں بن سکیں ہیں۔
