اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 100 دن میں مکمل اہداف حاصل نہیں کر سکی۔
پروگرام ’پاکستان ٹونائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی کوشش ہے کہ غریب طبقے کو ریلیف دیا جائے پر بہت سے کام ہیں جو ہم کرنا چاہتے تھے پر نہیں کر سکے جیسے عوام کو قیمتوں میں ریلیف دینا چاہتے تھے پر نہیں دے سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ 100 دنوں میں کرپشن فری حکومت کی اور 100 دن سے خزانہ بھی سوچ رہا ہو گا کہ اسے کسی نے لوٹا نہیں ہے، موجودہ حکومت کرپشن فری ہے۔
وزیر اعظم کے برآمدات بڑھانے کے حوالے بیانات پر ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر چیز درآمد کرتے ہیں اور موجودہ حکومت کو جو تکلیف سہنا پڑ رہی ہے وہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وجہ سے ہے، درآمدات زیادہ ہونے سے تجارتی تناسب خراب ہے، مفتاح اسماعیل کی پالیسی درست تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ زراعت دنیا بھر میں اہم شعبہ ہے اور اسی سے تو معیشت بہتر ہو گی۔ اس کے علاوہ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈسٹری لگانے سے معیشت بہتر ہوگی۔ اس کے علاوہ انڈسٹری لگے گی تو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/110227/” position =”left”]
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اب تک حکومت کی کارکردگی درست ہے۔
فواد چوہدری کے بیانات کے برعکس سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت صرف باتیں کر رہی ہے، کام نہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چل رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت 100 دن کا وقت اور لے لے لیکن کام کرے، کارکردگی دکھائیں، صرف باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہو جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرمسائل کے حل کی سمت کا تعین کر دیا جا تا تو بہتر ہوتا مگر عمران خان نے تقریر میں مسائل کا حل نہیں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت چھوڑی تو گروتھ اونچی ترین جبکہ مہنگائی ترین سطح پر تھی، منصوبوں کے لیے قرض چاہیے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت خزانہ خالی نہیں چھوڑ کر گئی تھی۔
شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس وصولیوں میں ہوتی ہے، کوئی ٹیکس ہی نہیں دیتا اور ن لیگ نے ٹیکس امنسٹی دے کر ٹیکس میں کرپشن کم کرنے کی کوشش کی۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/110286/” position =”left”]
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کوسرمایہ کاروں کو واپس لانے میں کئی سال لگ گئے پر یو ٹرن والی حکومت سرمایہ کاری نہیں لا سکے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ عمران خان کی کابینہ میں کرپٹ ترین لوگ بیٹھے ہی اور پی ٹی آئی حکومت پانچ سال مکمل نہیں کرنا چاہتی جبکہ موجودہ حکومت احتساب چاہتی ہے یا اپنے شرائط پر احتساب چاہتی ہے۔
پاکستانی صحافی حامد میر کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے کچھ مختلف رائے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی بڑھی ہے پریہ بھی دیکھنا چاہیے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو معاشی تباہی سے بچایا ہے۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ 100 روز میں عمران خان بھرپور کوشش کرتے رہے اور ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی موجودہ کابینہ میں آدھے افراد پہلے وزیر رہ چکے، پر نئے لوگ اسد عمر جیسے زیادہ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر وزیراعظم اپوزیشن کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے تو قانون سازی نہیں ہو سکتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ دعویٰ کہ حکومت ناکام ہو جائے گی غلط سابت ہو گیا ہے۔
